8 دسمبر 2012 - 20:30

امریکی فوج میں جنسی تشدد کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی خواتین فوجیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری ہے۔

ابنا: امریکی خواتین فوجیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی اس حد تک ہے کہ امریکہ کے اعلی فوجی حکام نے بھی اس کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ امریکی آرمی چیف جنرل ڈمپسی نے جنسی جرائم کے خلاف مہم کے سلسلے میں امریکی وزیر دفاع کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی تشدد جیسے جرائم نے امریکی فوج کے پیشہ وارانہ تشخص کو بری طرح متاثر کردیا ہے۔ امریکی اعلی فوجی افسروں کے اخلاقی فضیحتوں اور رسوائیوں کے بعد امریکی وزارت دفاع نے ایسے افسروں کی حمایت کی نوعیت پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ان فضیحتوں میں ملوث ہیں۔ اس بات کا فیصلہ جمعہ کے دن کیا گیا جس کی بنیاد، وہ نکات ہیں کہ جن کے بارے میں امریکی وزیر دفاع نے تین ہفتے قبل آرمی چيف سے گفتگو کی تھی جن میں امریکی فوجیوں کی اخلاقی تربیت کا عمل شامل ہے۔ ادھر اس وقت بھی دو اعلی فوجی افسروں یعنی سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈیویڈ پیٹریاس اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن کے خلاف اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب سے امریکی فضائیہ میں بھی جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے جرائم کے پیش نظر اداروں سے خواتین کی ناشائستہ لباس میں تصاویر اور پوسٹرز ہٹانے کا اقدام کیا گیا ہے اور تمام متعلقہ شعبوں سے تصاویر ہٹانے کیلئے دس روز کی مہلت دی گئی ہے۔ یہ سب اقدامات امریکی فوجیوں میں جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کیلئے عمل میں لائے جارہے ہیں۔ امریکی فوج کے اعدادوشمار کے مطابق سالانہ 19 ہزار افراد، جنسی تشدد کی بھینٹ چڑھتے ہیں جبکہ ایسے جرائم کے مرتکب فوجیوں اور افسروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں شکایت کرنے والوں کے کا کہنا ہے کہ مجرم فوجیوں اور افسروں کو عدالت میں طلب تک نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کی جاتی ہے؛ جبکہ امریکی فوجیوں کے جنسی تشدد کے جرائم صرف امریکی فوج تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ بیرون ملک بھی اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس سلسلے میں جاپان اور جنوبی کوریا میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں کے عوام خاص طور سے جاپان کے جزیرہ اوکیناوا کے عوام نے اس قسم کی جارحیت و تشدد کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے ہیں۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فوج میں جنسی تشدد و زیادتی کا عمل نہ صرف بڑھتا جارہا ہے بلکہ اس سلسلے میں کنٹرول اور روک تھام کی خاطر خواہ کوئی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکی فوج میں ہمجنس پرستوں کی بھرتی کے اعلان سے امریکی فوجی کی اخلاقی حالت اور بھی ابتر ہوگی جس سے امریکی افواج کی صلاحیتوں پر بھی کافی اثر پڑےگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110