6 دسمبر 2012 - 20:30

جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے، امریکہ کا سارا رعب و دبدبہ کھوکھلا ہے، ایران کے ساتھ سب سے زيادہ تجارت ہونی چاہئے جو ہمارا فطری دوست ہے اور ہمیں دھوکہ نہيں دے سکتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے اسلام ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ تجارت ایران کے ساتھ کرنی چاہئے، ہر شعبہ میں ایران کے ساتھ تعلق ہونا چاہئے، ایک تو وہ ہمارا فطری دوست ہے، اس کے ساتھ اچھے تعلقات ہمارے مفاد میں ہیں، اس کے علاوہ وہ ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتا۔ انھوں نے کہا: بھارت سے تجارت کی باتیں ہو رہی ہیں، بھارت سے دھوکا مل سکتا ہے، اس پر اعتبار بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ایران دھوکا نہیں دے سکتا، وہ تعاون کرے گا، لہذا گیس پائپ لائن کے علاوہ بھی ایران کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے اور فوری طور پر اس پر عمل کیا جائے، امریکی دباؤ کو یکسر مسترد کر دیا جائے، اس کو کہا جائے کہ بھئی ایران سے دشمنی ہے تو آپ کی ہے، ہمیں کیوں درمیان میں گھسیٹتے ہو، اسی میں ہماری بقا ہے کہ ہم امریکہ کے سامنے ڈٹ جائیں۔ اپنے قومی مفاد سے قیمتی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی۔ انھوں نے کہا: ہمارے ملک کا مستقبل بہت اچھا ہے بات صرف یہ ہے کہ یہاں سے امریکہ دفع ہوجائے۔انھوں نے کہا: ہم نے اپنی قوم کو ایک دینی فلاحی ریاستی نظام دینا ہے، کیوں کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر ذمہ داری ڈال دی ہے اور پاکستان ریاست مدینہ کے بعد دوسری ریاست ہے جو صرف اور صرف اسلام کے لئے بنی ہے لیکن درمیان میں بہت بڑا گیپ ہے، دشمن قوتیں اس گیپ کو ختم نہیں ہونے دے رہیں، اگر وہ گیپ ختم ہوگیا تو ہمارے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلم اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہاں ہیں کیونکہ اس طرح انہیں بھی وہ حقوق ملیں گے جو اب نہیں دیئے جا رہے ہیں۔انھوں نے شیعہ سنی مسئلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ہر بات موجود ہے، اس میں تبدیلی نہیں آسکتی، ہمارے ملک میں واقعی شیعہ سنی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا: ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے میرے دل کی بات کہی۔ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ نبی کریم (ص) شیعہ تھے کہ سنی؟ جس دن خطبہ حجۃ الوداع ہوا اور حضور سرور کونین (ص) نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا ’’آج کے دن تم پر تمھارا دین مکمل کر دیا گیا اور اے لوگوں گواہ رہنا‘‘ اس دن کون شیعہ سنی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جتنے بھی فقہی مسائل ہیں یہ عربوں کی تاریخ ہے، یہ تو اسلام کی تاریخ بھی نہیں، کیونکہ ہمارا شمار تو عرب ممالک میں نہیں ہوتا۔ یہ عربوں کی تاریخ ہے جسے ہم نے مختلف انداز میں لیا۔ واقعہ کربلا پوری انسانیت کے لئے درس ہے، امام حسین (ع) نے کتنی بڑی قربانی دی، جو انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ انھوں نے مزید کہا: امام حسین (ع) وہ قطبی ستارہ ہیں جن کی رہنمائی میں ہم چل سکتے ہیں۔ ہمارے تمام مسائل کا حل قرآن میں ہے، جو جمہوریت قرآن دیتا ہے کوئی دوسرا دے ہی نہیں سکتا۔ انھوں نے تشدد پسندانہ رویوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ جو کہتے ہیں مرتدین کے گلے کاٹ دو، کافر کو مارو، شیعہ کافر، سنی کافر، فلاں کافر ۔۔۔ یہ سب جہالت ہے، اگر آپ قرآن کو پکڑیں تو یہ سوچ نیست و نابود ہو کر رہ جائے گی۔ قرآن کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، تو ایسی باتیں عام کرنے سے مسائل ختم ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110