30 نومبر 2012 - 20:30

ایمنسٹی انٹر نیشنل تنظیم نے آل سعود حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر آل سعود کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں اور قانوندانوں اور سعودی کال کوٹھریوں میں قید بعض افراد کے گھروالوں کوجنہیں سیکورٹی فورس نے حال ہی میں گرفتار کیا ہے فورا رہا کرے۔

ابنا: ایمنسٹی انٹر نیشنل تنظیم میں مشرق وسطی اور شمالی افریقا امور کے انچارج نے گذشتہ روز ایک بیان جاری کرکے ریاض کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے مسالمت آمیز مظاہرے کے دوران جن پندرہ مظاہرین کو آل سعود کی سیکورٹی فورس نے گرفتار کیا ہے انھیں فورا رہا کیا جائے ۔سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں نے کچھ دنوں قبل سعودی عرب کے دارالحکومت  ریاض میں انسانی حقوق تنظیم کے دفتر کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے کے الزام میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔اور سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق تنظیم کا دفاع کرنے والے گروہوں نے اس اقدام کی  بھرپور مذمت کی تھی سعودی عرب کی پولیس فورس نے ان لوگوں کواس ملک کے دارالحکومت ریاض میں بائیس خواتین اور آٹھ بچوں کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا تھا جب یہ لوگ آل سعود حکومت کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے ۔ایمنسٹی انٹر نیشنل تنظیم میں مشرق وسطی اور شمالی افریقا امور کے انچارج فیلیپ لوثر کے بیان میں آیا ہے کہ مسالمت آمیز مظاہروں میں شرکت یا مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ غلط رویے سے پیش آنے والے اہلکاروں پر تنقید کرنا کسی بھی اعتبار سے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مظاہرین کو گرفتار کیا جائے ۔آل سعود کی جانب سے پرامن مظاہرین اوراپنےجمھوری حق کامطالبہ کرنے والے عوام کوخاک وخون میں غلطاں کرنےکےاقدام سے یہ حقیقت کھل کرسامنےآگئي ہےکہ آل سعود ، ایک جابر، ظالم، ڈکٹیٹر، اورانسانی حقوق اورعالمی قوانین کوپامال کرنےوالی شاہی حکومت ہے جواپنا اقتداربچانے کے لئے ہرطرح کےجرائم کےارتکاب کوجائز سمجھتی ہے۔آل سعود کےجرائم سےسعودی عوام میں تشویش کی ایک لہردوڑگئي ہے اوریہ ایسےعالم میں ہے کہ مغربی حکومتیں آل سعود کےجرائم کےسامنے پوری طرح خاموش ہیں ۔سعود عرب میں عوامی مظاہروں اورتحریکوں میں فروغ سے پتہ چلتاہے کہ آل سعود کواپنےملک میں بھی اسلامی بیداری کی لہرکاسامناہے لیکن وہ تشدد اورقتل عام کے ذریعےعوامی مطالبات کاجواب دےرہی ہے۔اس تناظرمیں سعودی عرب کےسیاسی امور کےماہرفواد ابراہیم نےکہاہے کہ آل سعود ، سعودی عرب میں انسانی حقوق کومنظم طریقے سے پامال کررہی ہے اس بناپر اس ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کامسئلہ عالمی سطح پراٹھایاجاناچاہئیے۔سعودی عرب کےاس سیاسی ماہرکا کہناہےکہ اس وقت سیاسی کارکنوں اورشخصیتوں کی گرفتاری کامسئلہ ، سعودی عوام کابنیادی مسئلہ بن گیاہے اورآل سعود سیاسی کارکنوں کوگرفتارکرکے بعض نسلی اورمذہبی گروہوں پردباؤ ڈال رہی ہے۔بنابرایں ریاض کے انسانی حقوق کےکارکنوں کی رپورٹ کےمطابق اس وقت تقریبا تیس ہزارسیاسی رہنما اورکارکن سعودی جیلوں میں ہیں جن کےسلسلےمیں نہ توکوئي چارج شیٹ داخل کی گئی ہے اورنہ ہی مقدمہ چلایاجارہا ہے۔ سعودی عرب کی سیاسی شخصیت جمال ابوعلی پرامن مظاہرین کی سرکوبی کوآل سعود کی دائمی پالیسی قراردیتے ہيں۔ان تمام امور سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ رائے عامہ کے نزدیک آل سعود کی حکومت ایک سازشی ، تشدد پسند اور جمہوریت مخالف حکومت ہے اور اسلامی بیداری کے نتیجے میں خطے میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر ایسی ناجائز حکومت کا انجام زوال اور نابودی کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110