اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے رکن پارلیمان عبدالرضا عزیزی نے پارلیمان کے خبررسان ادارے سے گفتگو کے دوران صہیونیوں کی جانب سے مزاحمت تحریک کی رکن جماعتوں سے جنگ بندی کی استدعا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی کے خلاف آٹھ روزہ جارحیت میں صہیونیوں کی شکست سے ان کی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ واضح رہے کہ صہیونی اخبار بھی اس جنگ میں غاصب اسرائيل کو اس جنگ کا ہارا ہوا فریق قرار دے رہے ہیں۔فلسطینی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائيل کے سیاسی حلقوں نے غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائيلی فوج اس حملے سے، اپنے متعینہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریکوں نے اس جنگ سے اپنے مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔ صہیونی اخبار ہاآرتص نے اپنی تازہ اشاعت میں آٹھ روزہ حملوں میں اسلامی مزاحمت کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائيلی فوج دفاع کی لازمی صلاحیت کھوچکی ہے۔اسرائيلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے بھی لکھا ہے کہ غزہ کے خلاف آٹھ روزہ حملوں کی وجہ سے اسرائيل کے مختلف علاقے فلسطین کی اسلامی مزاحمت کے میزائل حملوں کی زد میں آ چکے تھے۔واضح رہے کہ غزہ پٹی پر صہیونیوں کے آٹھ روزہ حملوں کے دوران ایک سو ساٹھ سے زائد فلسطینی شہید اور بارہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں اور شہداء اور زخمیوں میں کثیر تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ غزہ میں اسلامی مزاحمت کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے عاجز ہونے کے بعد صہیونی ریاست جنگ بندی کے اعلان پر مجبور ہوگئی۔
بشکریہ از ریڈیو تہران۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110