اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست نے مزید شرمندگی اور مزید بڑی شکست سے بچنے کے لئے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے جواب میں اسلامی مزاحمت کے راہنماؤں نے صہیونیوں کی جانب سے جنگ بندی کا لحاظ رکھے جانے کی صورت میں جنگ بند رکھنے کی حامی بھری۔ جنگ بندی بدھ کی رات سے شروع ہوئی۔القدس العربی نے لکھا: غزہ کے مجاہدین کے مقابلے میں اسرائیل کی شکست اس ریاست کی تاریخ کی بدترین شکست تھی کیونکہ اسرائیل حتی ایک مقصد بھی حاصل نہ کرسکا اور نیتن یاہو جنگ بندی کے لئے گداگری پر مجبور ہوگیا۔ القدس العربی کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے لکھا: غزہ پر صہیونیوں کی آٹھ روزہ جنگ اسرائیل کی بےمثل شکست کے عنوان سے عرب اسرائیل تنازعہ کی تاریخ میں ثابت ہوگئی ہے؛ جنگ کا نتیجہ اسرائیل کے لئے مکمل طور پر معکوس رہا اور غزہ کی مزاحمت تحریک میدان جنگ سے فاتح ہوکر باہر آئی ہے۔ عطوان کے مطابق نیتن یاہو حماس حکومت اور جہاد اسلامی کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے اور ان کو ختم کرنے کا نعرہ لگاکر وزیر اعظم بنا تھا لیکن مصری حکومت کے توسط سے ان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا اور حماس کی حکومت پہلے سے کہیں زيادہ مضبوط ہوئی۔ انھوں نے لکھا کہ اسرائیل اپنی تاریخ میں پہلی بار جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوا جبکہ اس سے پہلے کبھی بھی سفارتکاری پر یقین نہيں رکھتا تھا اور جبر اور طاقت کے استعمال پر اصرار کرتا نظر آیا کرتا تھا۔ انھوں نے لکھا کہ نیتن یاہو کی جھوٹی دھمکیوں کا آخری مرحلہ غزہ میں ذلت آمیز شکست کھا کر اختتام پذیر ہوا اور اس کے بعد اگر وہ ایران کے جوہری پروگرام یا لبنان کی حزب اللہ کی فوجی طاقت کے خاتمے کی بات کرے گا تو دنیا میں کوئی بھی اس کی باتوں کا یقین نہیں کرے گا کیونکہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ بہت زیادہ ڈرپوک اور بزدل ہے اور وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں کے خلاف میدان جنگ میں نہیں اترسکے گا اور کسی بھی مصالحت تک پہنچنے کے حوالے سے اس سے بھی زیادہ بزدل ہے۔عطوان نے آخر میں لکھا: نیتن یاہو حالیہ جنگ میں کسی بھی ہدف کے حصول میں بے بس رہا اور جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور ہواکیونکہ وہ غزہ پر زمینی حملہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا کیونکہ جس طرح کہ غزہ کے میزائلوں نے اس کو حیرت زدہ کردیا تھا زمینی جنگ میں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیزیاں اس کا انتظار کررہی تھیں۔ وہ ڈر گیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ؛فلسطین کے قانونی وزير اعظم اسمعیل ہنیہ نے ایران کا خصوصی شکریہ ادا کیاالعالم کے مطابق فلسطین کے قانونی وزير اعظم اسمعیل ہنیہ نے مزاحمت تحریک کی حمایت کی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا: ہم ان تمام قوتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں فوجی اور مالی امداد فراہم کی اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہنیہ نے غزہ میں منعقدہ جشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف غزہ کی کامیابی کو ایک دائمی اور ابدی حقیقت قرار دیا اور کہا: میں فخر کرتا ہوں کہ ایک مجاہد قوم کا وزیر اعظم ہوں؛ یہ کامیابی جس نے کروڑوں انسانوں کو مسرور کیا اور امت مسلمہ کو خوشنود کیا، درحقیقت ایک آغاز ہے اور آنے والی جنگ قدس کی آزادی کی جنگ ہوگی چنانچہ مزاحمت تحریک کو قدس کو واپس لینے کے لئے تیاری کرلینی چاہئے۔ انھوں نے کہا: اگر غزہ کی حکومت مزاحمت تحریک کی حمایت نہ کرتی تو آج مزاحمت تحریک کامیاب نہ ہوتی۔انھوں نے کہا: امت کا اتحاد اور فلسطینیوں کے دوش بدوش اس کی یکجہتی فلسطین کی آزادی کی طرف جانا والا سب سے مختصر راستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مزاحمت تحریک نے غاصب ریاست کے ساتھ کھیل کے قواعد تبدیل کرکے رکھ دیئے اور غزہ پر زمینی حملے کو ناممکن بنادیا۔ اسمعیل ہنیہ نے کہا: الجعبر کا قتل اسرائیل کی حماقت اور ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ تھا اور غاصب ریاست کوئی بھی مقصد حاصل کرنے سے عاجز رہی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
خالد مشعل نے اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کیا
حماس کے سینئر راہنما نے ایران کا شکریہ ادا کیا/ اسرائیل کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے
غزہ میں مزاحمت تنظیموں اور عوام کا جشن فتح / جہاد کےراہنما کا خطاب
غزہ کے مجاہدین سےخوفزدہ صہیونی فوجی دیکھیں اور یقین کریں
فلسطینی مزاحمت کی افسانوی پامردی فتح و نصرت کی اساس
ایک کلپ: غزہ کیونکر فاتحِ جنگ ہوا