اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے نواحی علاقے ڈھوک سیداں میں قصر شبیر امام بارگاہ کے قریب صہیونیت نواز دہشت گردوں نے عین اس وقت دھماکہ کیا جب ہزاروں عزاداران امام حسین (ع) کا جلوس قصر شبیر پہنچا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق عزادار قصر ابوطالب سے مجلس میں شرکت کے بعد امام بارگاہ قصر شبیر پہنچے ہی تھے تو دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں رات گئے کی اطلاعات کے مطابق 28 عزاداران حسین (ع) شہید اور 47 زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد عزاداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ـ جس کے آغاز محرم سے حکومت دعوے کررہی تھی ـ بھی طشت از بام ہوگئے۔ بم دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ اور امدادی ٹیموں کے کارکن معمول کے مطابق جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ دھماکے کے بعد علاقہ کی بجلی منقطع ہوئی جبکہ گنجان آباد علاقہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ دھماکے کی شدت کے باعث شہید ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس نے [معمول کے مطابق] علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ مزید نفری بھِی طلب کرلی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش ہو سکتا ہے جبکہ بعض پولیس اہلکاروں نے کہا کہ دھماکہ خودکش تھا اور حملہ آور کا سر اور ہاتھ مل گیا ہے۔ دریں امام بارگاہ سے نکالا جانے والا جلوس اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا اور علاقے کے عمائدین کا کہنا تھا کہ جلوس کسی صورت میں بھی معطل نہیں کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کو امن فراہم کرنے مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے؛ ملک کو فوج کے حوالے کیا جائے ورنہ یوم عاشورا کو مزید خونی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد جائے وقوعہ سے ایک دستی بم بھی برآمد ہوا۔شیعت نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ جلوس عزا میں ایک شخص نے خود کو ماتمی دستے کے درمیاں دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا جس کے بعد علاقے کے مومنین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والا یہ چوتھا حملہ تھا۔دریں اثناء کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر 5 میں امام بارگاہ حیدر کرار(ع) کے قریب دھماکا ہوا جس میں چارافراد شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اسلام ٹائمز کے مطابق دھماکہ امام بارگاہ کے سامنے چورنگی پر ہوا جس میں 4 شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکا خیز مواد چورنگی کے قریب رکھا گیا تھا، جہاں قریب ہی امام بارگاہ، الخدمت اسپتال اور دیگر عمارتیں واقع ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکہ امام بارگاہ میں کھڑے رکشے میں ہوا۔ زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔بم دھماکہ اس وقت ہوا جب امام بارگاہ حیدر کرار (ع) میں محرم الحرام کے چھٹے روز کی مجلس عزا کا آغاز ہونے والا تھا۔ ڈی آئی جی نے اس دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا ہے جبکہ دوسرے پولیس افسران اس کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنے سے گریزاں ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کے کچھ دیر بعد اسی امام بارگاہ کے اصلی گیٹ پر ایک اور دھماکہ کیا گیا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں عزادار زخمی ہوئے۔راولپنڈی کے علاقہ ڈھوک سیداں کے ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ہر طرف رقت آمیز مناظر ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ڈھوک سیداں بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کے نام کچھ اس طرح ہیں۔ شائق شاہ، تنویر شاہ، ضیاء شاہ، عمران کاظمی، ثقلین کاظمی، رضا شاہ، راحیل شاہ، محسن شاہ، شہداء کی نماز جنازہ دن دو بجے امام بارگاہ قصر شبیر کے سامنے ڈھوک سیداں روڈ پر ادا کی گئی۔پنڈی کے شیعہ سنی شہدا کی ایک ساتھ نمازجنازہ 3 لاکھ لوگ شریک ہوئے۔کل پنڈی میں جلوس عزا پر ہونے والے خود کش حملے میں شہید ہونے والے شیعہ اور سنی شہدا کی ایک ساتھ نماز جنازہ آج تین بجے سہ پہر ادا کی گئی جس میں تین لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے شرکت کی یہ نماز جنازہ شیعہ سنی اتحاد کا عظیم مظاہرہ تھا۔ادھر پاکستان کی کالعدم مگر سرگرم دہشت گرد تنظیم طالبان نے پاکستان میں عزاداران حسینی پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق کالعدم طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے پاکستان کے شہروں راولپنڈی اور کراچی میں عزاداران حسینی پر ہونے والوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔کل رات راولپنڈی اور کراچی میں امام بارگاہوں کے قریب دہشت گردانہ حملوں میں 80 سے زیادہ افراد شہید اور زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ صہیونیت نواز دہشت گردوں نے دشمنان صہیونیت پر ایسے وقت میں دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کہ غزہ پر صہیونی حملوں میں 162 افراد شہید اور 1300 زخمی ہوئے ہیں اور فلسطینی وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ نے القسام بریگیڈز اور القدس بریگیڈز کے کمانڈروں نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونیوں پر ان کی کامیابی کا راز ان میزائلوں میں مضمر تھا جو اسلامی جمہوریہ ایران نے ان کے لئے بھجوائے تھے اور ایک فلسطینی شہری نے کہا ہے کہ اگر ایرانی ميزائل نہ ہوتے تو غزہ کے عوام آٹھ روزہ جنگ میں ماضی کا حصہ بن چکے ہوتے اور معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی دہشت گرد شیعیان اہل بیت (ع) سے فلسطینیوں کی حمایت کا بدلہ لے رہے ہیں۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غزہ کے عوام کی غالب اکثریت اہل سنت و الجماعت سے تعلق رکھتی ہے اور حالیہ یہودی جارحیت کے دوران ثابت ہوچکا ہے کہ مسلم دنیا میں شیعیان آل محمد (ص) نے غزہ عوام کی ہر لحاظ سے مدد کی ہے جبکہ دوسرے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110











