20 نومبر 2012 - 20:30

قاہرہ کے یافا مطالعات و تحقیقات مرکز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ قسام بریگیڈیز کے کمانڈر آپریشنز شہید احمد الجعبری امیر قطر کی طرف سے دی گئی گاڑیوں کا شکار ہوئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں یافا مطالعات و تحقیقات مرکز کے ڈائریکٹر "رفعت السید احمد" نے "کس نے الجعبری کو قتل کیا اور کس نے غزہ کو نذر آتش کیا؟" کے عنوان کے تحت اپنے ایک مضمون میں لکھا: "اسلامی مزاحمت تحریک "حماس" کے عسکری شعبے "عزالدین قسام بریگیڈیز" کے کمانڈر آپریشنز شہید "احمد الجعبری" کے قتل کی سازش کئی مرحلوں میں انجام کو پہنچی اور غزہ میں تحریک مزاحمت کے باخبر ذرائع نے انکشان کیا ہے کہ اس سازش کا پہلا مرحلہ امیر قطر ـ جنہوں نے غزہ اور اس کو مالی امداد پر اپنی توجہ مرکوز کررکھی تھی ـ کی طرف سے ان کو دی گئی نہایت جدید قسم کی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس نامور عرب محقق نے لکھا ہے: امیر قطر نے حال ہی میں غزہ کا دورہ کیا اور انھوں نے حماس کے بعض راہنماؤں نیز مزاحمت کے بعض کمانڈروں کو گاڑیوں کے تحفے دیئے۔ یہ گاڑیاں یہودی ریاست کی بدنام زمانہ جاسوسی ایجنسیوں کی زیر نگرانی تیار ہوئی تھیں اور ان میں نہایت جدید قسم کے الیکٹرانک آلات نصب ہوئے تھے جن کے توسط سے صہیونی طیارے ان گاڑیوں کا سراغ لگا سکتے تھے اور ان کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ رفعت السید احمد نے مزید لکھا: الجعبری نہایت دلیر اور بے باک کمانڈر تھے اور صہیونی فوجی "گلعاد شالیت" کی گرفتاری میں ان کا بہت اہم کردار تھا اور اسی بنا پر وہ فلسطینیوں کے درمیان جانے پہچانے تھے اور جس دن انھوں نے امیر قطر کی دی ہوئی گاڑی استعمال کی اسی دن صہیونیوں کے حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔ رفعت السید نے انکشاف کیا کہ اسرائیل اور اس کے مغربی اور عرب حلیف تحریک مزاحمت کو عظیم تر مشرق وسطی کے اپنے منصوبے کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں لہذا وہ اس سازش پر عملدرآمد کے لئے ـ جو کہ "اخوانی ـ وہابی ـ امریکی" معاہدے کے سانچے میں ڈھل گئی ہے، مزاحمت تحریک کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ رکاوٹ ہٹے گی تو "امریکہ اور صہیونی ریاست حماس کی پیٹھ پر سوار ہوسکیں گے جبکہ حماس اس وقت خود ساز باز کی گاڑی پر سوار ہوچکی ہے۔ رفعت السيد احمد نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھا: غزہ پر اسرائیل کے حملے اور مزاحمت تحریک کے میزائل ٹھکانوں ـ یا جن مقامات کو اسرائیل میزائل ٹھکانے سمجھ رہا تھا ـ کو بمباری کا نشانہ بنانے کا ایک سبب یہ تھا کہ قطر اپنے کرائے کے کٹھ پتلی [خالد مشعل] ـ جو سیاسی راہ حل کے مروجین میں سے ہے اور بیرون ملک ایک فلسطینی تنظیم کی قیادت کا عنوان سونپے ہوئے ہے ـ کے توسط سے مطلع ہوا تھا کہ اسلامی مزاحمت تحریک اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے گوداموں اور میزائلوں کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس منتقلی کا مقصد یہ ہے کہ غزہ کی اسلامی مزاحمت گروپس حزب اللہ اور شام کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی یا حتی ایران کے ساتھ اس طرح کی کسی لڑائی کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ قطر نے یہ معلومات فوری طور پر اسرائیل کو فراہم کردیں اور اسرائيل نے بھی ان مقامات کو بموں کا نشانہ بنایا جن کو وہ اپنے خیال میں میزائل اڈے سمجھ رہا تھا؛ جبکہ وہ ایک بار پھر دھوکہ کھا چکا تھا اور اس حقیقت سے غافل تھا کہ مزاحمت تحریک اس سے کہیں زیادہ ہوشیار ہے اور اس نے اسرائیل، قطر، امریکہ اور سعودی عرب کو اپنے جال میں پھنسا دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔/110