10 نومبر 2012 - 20:30

کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے۔

ابنا: ٹریفک جام کے باعث پولیس اور ایمبولینس فائرنگ کے واقعات کی اطلاع پر فوری موقع پر نہیں پہنچ سکی۔ ایک نوجوان کی نماز جنازہ کے موقع پر ٹینکرز نذر آتش کردیا گیا۔فائرنگ کا تازہ ترین واقع ملیر کھوکراپار میں پیش آیا جس میں نامعلوم افرادنے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا جبکہ فائرنگ کا ایک اور واقعہ کالا پل کےعلاقے میں پیش آیا جس میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو افراد کو زخمی کردیا۔قبل ازیں گلشن اقبال بلاک دو میں ہوٹل پر بیٹھے مدرسے کے طالب علموں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چھ طالب علم جاں بحق ہوگئے جو ہوٹل پر چائے پینے آئے تھے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس ٹریفک جام کے باعث بیس منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمیوں کو بھی ٹریفک جام کے باعث فوری اسپتال نہیں پہنچایا جاسکا۔نارتھ ناظم آباد میں کار پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ واقعہ کے چند منٹوں بعد ہی اس جگہ سے کچھ فاصلے پر ایک اور شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول عرفان مذہبی جماعت کا کارکن تھا۔ ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے۔ تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود جمعہ گوٹھ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے علی اختر نامی نوجوان لقمہ اجل بنا جس کی ہلاکت کیخلاف علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پتھارے اور کیبن کو نذرآتش کردیا جس کے بعد علاقے میں پولیس اور رینجرز کی نفری کو تعینات کردیا گیا۔پرانا گولیمار کے علاقے ریکسر لائن میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے چار افراد کوجاں بحق کردیا جن کی شناخت صادق، بابر،شاہد اور منور کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول منور پاک کالونی کے ایک جرائم پیشہ شخص انور کوجیک کا بھائی ہے اور چاروں مقتولین آپس میں دوست تھے پولیس فائرنگ کے واقعے کو دشمنی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔ کورنگی میں فائرنگ سے معشوق علی ہلاک اور طلحہ زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا نتیجہ ہے۔جمعہ کی شب کریم آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان بحق ہونے والے سعید حیدر زیدی کی نماز جنازہ رضویہ امام بارگاہ گولیمار میں اد کردی گئی۔اس موقع پر نامعلوم مشتعل افراد نے پولیس کی موجودگی میں ایک ٹینکر کو آگ لگادی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110