8 نومبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایک بار پھر تاکید کی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔

ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے جمعرات کو انڈونیشیا کے شہر بالی میں عالمی جمہوریت فورم کے اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کی شفافیت کو ثابت کرنے کےلئے یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ مختلف ملکوں کے ایٹمی سائنس داں ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کریں اور نزدیک سے یہ دیکھیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام کسی طرح کے فوجی مقاصد کاحامل نہیں ہے۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ تمام حکومتوں کے نمائندے ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرسکتے ہیں کیونکہ ایران واحد ملک ہے جس نے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی کارکردگي کو ہدف تنقید بناتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ یہ عالمی ادارہ بعض سامراجی ممالک کے زیر اثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کے لئے بس اتنا کافی ہوگا کہ امریکہ اپنا رویہ تبدیل کرکے اپنی اصلاح کرلے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین نے متعدد مرتبہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کیا ہے اور ایجنسی کی رپورٹوں میں آیا ہے کہ ایسا کوئي ثبوت نہیں مل سکا ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ایران ایٹم بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن آئي اے ای اے  نے آج تک امریکہ کی جانب سے ایٹمی ترک اسلحہ کے بارے میں کوئي رپورٹ پیش نہیں کی ہے کیونکہ یہ ایجنسی ایٹمی ہتھیاروں کےحامل ملکوں کے زیر تسلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی معاملہ ایک سیاسی مسئلے میں تبدیل ہوچکا ہے اور آئي اے ای اے کے رکن ملکوں نیز پانچ جمع ایک گروپ نے صراحتا اعلان کیا ہےکہ ایران کو امریکہ کے منشاء کے مطابق اپنا ایٹمی معاملہ حل کرنا ہوگا۔
.....
/169