7 نومبر 2012 - 20:30

حزب اللہ نے آج اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ سید حسن نصراللہ عاشورا کا عراق کے زیارتی سفر پر جارہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں حزب اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن "محمد القماطی" نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے دورہ عراق کے بارے میں شائع ہونے والی خبریں صحیح نہيں ہیں اور سید حسن نصر اللہ فی الحال عراق کے دورے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ قبل ازیں عراق کی الصدر تحریک کے اعلی ذرائع نے کہا تھا کہ سید حسن نصر اللہ نے عاشورا کو عراق کے دورے کے لئے ایک درخواست بھجوائی ہے۔ کہا گیا تھا کہ سید حسن نصر اللہ کربلا اور نجف کے زیارتی سفر پر عراق آرہے ہیں جہاں وہ مراجع تقلید سے ملاقات بھی کریں گے۔ ان ذرائع نے کہا تھا کہ سید حسن نصر اللہ نے دورہ عراق کے بارے میں درخواست حکومت عراق کو بھجوائی ہے تا کہ وہ اس سفر کے لئے ضروری حفاظتی اقدامات کرے۔ عراق کی حزب مخالف کے ایک راہنما ایاد علاوی نے اس دورے کی مخالفت کی تھی لیکن صدر تحریک نے کہا تھا کہ اس سفر کے لئے عراق میں نہ صرف کوئی رکاوٹ نہيں ہے بلکہ صدر تحریک کے کارکنان ان کی حفاظت کے لئے تیار ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ خیر صہیونی ریاست سے وابستہ اخبار "معاریو" نے بھی تفصیل کے ساتھ شائع کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مقامات مقدسہ کی زیارت اور مراجع تقلید سے ملاقات کریں گے۔ معاریو نے دعوی کیا تھا کہ سید حسن نصر اللہ تین ہفتوں تک کربلا اور نجف میں قیام کریں گے اور تاسوعا اور عاشورا کے دن کربلا میں رہنے کے خواہاں ہیں اور حزب اللہ نے حکومت عراق سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سفر کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کرے۔صہیونی اخبار نے دعوی کیا تھا کہ سید حسن نصر اللہ کے بےشمار خطرات درپیش ہیں چنانچہ وہ زمینی راستے سے شام میں چلے جائیں گے اور شام ـ عراق سرحد سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنوب عراق کاسفر اختیار کریں گے۔ دریں اثناء لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے حامی رکن "کامل الرفاعی" "الشرق الاوسط" سے بات چیت ہوئے اس صہیونی اخبار کی خبر کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سیدحسن نصراللہ کے دورہ عراق کو بعید از قیاس قرار دیا اور کہا: مجھے اس سفر کے سلسلے میں علم نہیں ہے اور میرا نہیں خیال کہ علاقے کی موجودہ صورت حال میں اس طرح کا کوئی دورہ انجام پاسکے کیونکہ حالات بالکل مناسب نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: سید حسن نصر اللہ لبنان میں مختلف مراسمات و مجالس میں خطاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور عاشورا کے روز بھی وہ لبنان میں اس ملک کی سیاسی صورت حال کے سلسلے میں ایک تقریر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ محرم الحرام کے دوران سید کے مذکورہ بالا پروگرام کو مدنظر رکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ محرم الحرام میں لبنان میں ہی ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110