اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک لبنانی اخبار نے پیر کے روز "شام کے بحران میں ترکی کے کردار کے حوالے سے امریکی موقف میں تبدیلی" کے اسباب بیان کئے ہیں۔ لبنانی روزنامہ "الاخبار" اپنے تجزیئے میں لکھتا ہے: امریکہ نے سیرین نیشنل کونسل میں تبدیلی لانے کے سلسلے میں نیا موقف پیش کرکے بحران شام کے سلسلے میں عربی و علاقائی حلقوں میں کشمکش پیدا کی ہے لیکن کسی نے بھی ترکی کردار کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے۔ رجب طیب اردوگان نے مئی 2011 کے آخر میں شام کے مخالفین کے پہلے اجلاس کی شہر انطالیہ میں میزبانی کرکے جلدبازی میں بشار اسد کے خلاف اپنے موقف کا اعلان کرکے بہت سوں کو حیرت زدہ کیا۔ ابھی شام سے کوئی پناہ گزین پڑوسی ملکوں کے مقصد سے اپنی جگہ سے ہلا ہی نہیں تھا کہ مئی 2011 میں اردوگان نے شامی مہاجرین کے لئے کیمپ قائم کرنے کا اعلان ہوا تھا چنانچہ اردوگان کے عجیب موقف نے سب کو حیرت زدہ کیا اور اردوگان نے اسی وقت ہی ملک میں شام سے آنے والے ممکنہ شامی تارکین وطن کیمپ تیار کرنے کا بھی اعلان کیا تھا [جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں موجودہ صورت حال پیدا کرنے کی سازش ابتداء ہی سے امریکی ـ ترکی ـ اسرائیل اور سعودی و قطری سازش تھی] اردوگان نے ابتداء ہی سے شام میں بیرونی قوتوں کی سازش پر عمل درآمد کرنے میں "قائدانہ کردار (!)" ادا کرنے کا تہیہ کیا تھا۔ابتداء میں اردوگان نے "فری سیرین آرمی" نامی دہشت گرد تنظیم کی تاسیس کی نیت سے شامی افواج سے بھاگنے والوں کو ان کیمپوں میں بسا دیا؛ اور آج بھی انطاکیہ کے علاقے میں ایسے کئی خفیہ اور اعلانیہ کیمپ موجود ہیں حکومت شام کے خلاف دہشت گردوں کی تربیت کے لئے مختص ہیں۔آج اس بات سے انکار کرنے والوں کو اپنے اوپر بھی ہنسی آتی ہے کہ شام کی حکومت کے خلاف ہونے والی سازش کو یورپ اور امریکہ سمیت اسرائیل اور عرب ریاستوں تک سب کی مالی، تربیتی، فوجی اور تشہیری امداد حاصل ہے اور ان حقائق سے اب ترک ذرائع بھی انکار نہیں کرتے۔ ترکی آل سعود اور آل ثانی کی کوشش یہ تھی کہ شام کے شہر کے نیٹو اور امریکہ کے لئے "بن غازی" میں تبدیل کریں تا کہ وہاں نوفلائی زون قائم کیا جاسکے اور دہشت گردوں کو مدد بھی دی جائے اور ان کی کاروائیوں کے اثرات و افادیت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ واض رہے کہ شام میں کئی بار عوامی رہائشی علاقوں پر فضائی بمباری ہوئی تو ترکی اور قطری اور سعودی تشہیری اداروں نے حکومت شام کو مورد الزام ٹہرایا اور شامی افواج نے ہر بار ان الزامات کی تردید کردی لیکن پھر اچانک ایک پروگرام کےتحت شام سے ایک پائلٹ اردن میں پناہ لینے گیا اور شام کی حکومت نے دوسرے دن خفیہ ہدایت جاری کی کہ کوئی بھی شامی فوجی طیارہ فضا پرواز نہ کرے کیونکہ کوئی بھی طیارہ فضا میں نظر آنے کی صورت میں مارگرایا جاسکتا ہے چنانچہ کوئی شامی طیارہ نہیں اڑا اور ایک ترک طیارہ اچانک شام کی فضاؤں میں نمودار ہو جس کو شام کے خودکار طیارہ شکن نظام نے مار گرایا۔ ترکی نے شورمچانے کی کوشش کی لیکن اردوگان جارحیت کے مرتکب ہوچکے تھے چنانچہ وہ کچھ زیادہ شور نہیں مچا سکتے تھے۔ طیارہ جو بظاہر شام کے رہائشی علاقوں پر بمباری کے لئے اڑا تھا تاکہ ایک بار پھر حکومت شام کو مورد الزام ٹہرایا جاسکے لیکن طیارہ گرادیا گیا اور اردوگان کی یہ سازش اس بار پکڑی گئی تھی اور بروقت اقدام کرکے اس کو ناکام کیا گیا تھا جس کے بعد رہائشی علاقوں پر فضائی بمباری کا سلسلہ جاری ہو۔ الاخبار لکھتا ہے: شام نے 22 جون 2012 کو ترک جنگی طیارہ مارگرایا جس کے بعد ترک وزیر اعظم نے عالمی رائے عامہ کو شام کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی اور اس کے بعد ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے کئی بار مارٹر گولے شام سے ترکی میں فائر کئے جس کے بعد ترک وزیر اعظم نے سخت موقف اپنایا اور شام کی سرزمین پر گولہ باریاں کروائیں لیکن حتی ترک عوام بھی ان کا یہ دعوی قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ شام کی حکومت نے ترکی پر مارٹر گولے داغے ہیں اور عرب ممالک بھی شام میں مداخلت کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس کے بعد نیٹو نے بھی یہ کہہ کر مداخلت سے انکار کیا کہ "شام کی حکومت نے آج تک ایک گولہ بھی ترکی کی طرف نہيں پھینکا ہے اور ترکی کے دعوے مبالغہ آمیز ہیں اور ان کو بنیاد بنا کر کسی ملک پر چڑھائی نہیں کی جاسکتی۔ اردوگان اور وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے بار بار ایک ہی جیسا موقف دہرا دہرا کر اسد حکومت کے خلاف ترک حکومت کا معاندانہ موقف آشکار کردیا اور ان دو افراد نے تمام تر اندرونی اور بیرونی وسائل بروئے کار لاکر ترک عوام نیز مغربی ممالک کو شام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ترکی مغربی منصوبوں میں قربانی کا مرغا نہیں بنا تھا اور ترک حکومت اپنے تمام تر سپنوں، منصوبوں اور عالمی قیادت کی خواہشوں کے ساتھ شام کی دلدل میں نہیں دھنسا تھا؛ اُس وقت ترک حکومت نے کئی اور غلطیاں بھی کیں۔ ترک حکومت کی سفارتکاری نے ثابت کیا کہ اس ملک نے ایران اور روس سمیت پڑوسی ممالک سمیت بہت سے علاقائی حقائق کو نظرانداز کرکے شام کر بحران میں قدم رکھا تھا؛ یہیں سے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ نے اردوگان اور داؤد اوغلو کو شام کی دلدل میں تنہا کیوں چھوڑا! حالانکہ یہ دو حضرات دعوی کررہے تھے کہ گویا شام کی بساط پر جیتنے کے لئے تمام ضروری کارڈ ان ہی کے پاس ہیں! جبکہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ امریکہ اور مغرب کے سہارے کھڑی کی جانے والی یہ بے بنیاد عمارت اتنی مضبوط نہیں ہے جس میں پناہ لینے کی امید لے کر پڑوسی ملکوں کی دشمنی مول لی جائے۔ ترکی میں تشکیل پانے والی سیرین نیشنل کونسل ـ جو ان دو حضرات کے جیتنے والے کارڈز میں سے ایک تھی ـ ان ہی کے سہارے قائم تھی اور ہم سب جانتے ہیں کہ اگر ترکی نہ ہوتا تو اصولی طور پر مذکورہ کونسل معرض وجود میں نہ آتی۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ ہلیری کے بیان کے بعد ثابت ہوا کہ ترک حکومت مشرق وسطی کی سیاست میں بروئے کار لائے جانے والے خفیہ اور اعلانیہ چالوں سے بالکل ناواقف ہے جبکہ یہ سیاست درحقیقت علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان خفیہ اور اعلانیہ مسابقتوں کا میدان ہے۔ یہ موضوع امریکہ کی طرف سے ترکی میں مقیم شام مخالف گروپوں کی مخالفت کے اسباب کو واضح کردیتا ہے کیونکہ امریکیوں نے تسلیم کیا ہے کہ شام کی حکومت اور عوام متحد ہیں اور امریکہ شام کے مخالفین پر بھروسا نہیں کرسکتا۔ ترکی نے شام کی دشمنی کی اور بظاہر امریکہ کے مفادات کے لئے اپنی علاقائی حیثیت داؤ پر لگائی لیکن آج نہ دمشق میں انہیں اچھے لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے اور نہ ہی واشنگٹن میں اور ترکی کے اندر بھی کوئی اردوگان اور ان کی حکومت کی مداحی کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ترک عوام اور سیاستدان سمجھتے ہیں کہ اردوگان نے شام کے مسائل میں بےجا مداخلت کرکے ترکی کے قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ جب سے اردوگان نے شام کو غیر مستحکم کرنے کا آغاز کیا ہے ترکی سے بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار ہے اور نہایت اہم اور خطرناک حقیقت یہ ہے کہ ترکی سے ملحقہ شامی علاقے کرد قومی پارٹی کے سپرد کئے جاچکے ہیں اور یہ جماعت ترکی مخالف کرد لیبر جماعت کی اتحادی ہے اور یہ مسئلہ مستقبل میں ترکی کے لئے زيادہ خوشایند نہیں ہوسکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ انقرہ کو ان مہم جویانہ پالیسیوں سے کیا ملا؟البتہ ترکی میں اردوگان کی خطاؤں کا ملبہ وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو پر گرایا جاتا ہے اور ترک ذرائع ابلاغ ان ہی کو علاقے میں ترکی کو دامنگیر ہونے والی تمام تر ناکامیوں کی ذمہ داری داؤد اوغلو پر ڈالی جاتی ہے اور اس نئے واقعے کو بھی اوغلو کی ناکامیوں کا نمونہ سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ نے ترکی کو شام کے مسئلے سے دور کردیا اور شام میں شرانگیزی کی خاطر اردوگان کے دوست بننے والے امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ترکی کا کردار سونپ دیا ہے؛ حمد بن خلیفہ فلسطینوں کے درمیان موجودہ خلیج وسیع تر کرنے کی خاطر یہودی ریاست کی اجازت سے غزہ کا دورہ کرکے آئے جو ان کے لئے کافی مفید ثابت ہوا جبکہ اردوگان عرصہ دراز سے غزہ کے دورے پر جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک ایسا کرنے میں کامیاب نہيں ہوسکے ہیں۔ گویا غزہ کا یہ دورہ امریکی اور صہیونی اعتماد جیتنے کا ایک حربہ تھا جو امیر قطر نے اردوگان سے قبل ہی استعمال کیا اور چھوٹی سی خلیجی ریاست عالم عرب و اسلام کی قیادت کے دعویدار اور عثمانی سلطنت کے نئے سلطان بننے کے لئے کوشاں اردوگان کو مات دے گئے ہیں اس امریکی بساط پر۔
فائنشل ٹائمز: ترکی اپنے پڑوسیوں کا دوست نہ رہافائنشل ٹائمز کے تجزیہ نگار نے مشرق وسطی کی صورت حال اور اس صورت حال میں ترکی کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ترکی مزید اپنے پڑوسی ملکوں کا دوست نہيں ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی روزنامے فائننشل ٹائمز کے تجزیہ نگار فلپ اسٹوینز نے شام کے بحران کی وجہ سے ترکی کو درپیش پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی رجب طیب اردوگان کی قیادت میں اس بات پر فخر کررہا تھا پڑوسیوں کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ترکی کی تیز رفتار معاشی ترقی، اور اخوان المسلمین کے ساتھ مثبت تعلقات کی بنا پر تبدیلیوں سے گذرنے والے ممالک ـ منجملہ تیونس اور مصر ـ کے لئے نمونۂ عمل سمجھاجاتا تھا اور لگتا تھا کہ چونکہ یورپ اس ملک کی رکنیت قبول نہیں کررہا ہے لہذا یورپی مخالفت کے رد عمل کے بموجب مشرق کی طرف منہ موڑنے کا عزم کئے ہوئے ہے لیکن شام میں تنازعات جاری رہنے کی وجہ سے اور اس بحرانی کی قبائلی اور فرقہ وارانہ پہلؤوں کے نمایاں ہونے کی وجہ سے ترکی نے اپنے آپ کو ایسے حال میں پایا کہ اسے شام کا بحران حل کرنے کےلئے امریکیوں کو مداخلت پر آمادہ کرنے کی کوششی کرنا پڑی حالانکہ ترک حکومت کچھ عرصے پہلے تک شام میں مغربی مداخلت کے خلاف تھے؛ علاوہ ازیں ترکی کی ترقی کی رفتار بھی ماضی کی مانند نہ رہی اور ترک حکومت کو شام میں مداخلت کی خاطر عراق، ایران اور روس کے ساتھ اختلافات کا سامنا ہے۔اسٹیونز نے لکھا ہے کہ اردوغان اپنے حساب کتاب میں غلطی کر بیٹھے ہیں۔اسٹیونز نے آخر میں لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں عراق کی جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ اور یورپ مشرق وسطی کے جغرافیائی اور سیاسی مقدرات پر قابو پانے سے عاجز ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ترکی یا کوئی دوسرا ملک امریکہ اور یورپ کا خلا پر کرسکے گا۔