29 اکتوبر 2012 - 20:30

صدر مملکت نے بيروني طاقتوں کي افواج کي موجودگي کو خطے ميں عدم استحکام کا باعث قرارديا ہے اور کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران خطے ميں امن و سلامتي کا ضامن ہے-

ابنا: صدرمملکت نے اسلامي جمہوريہ ايران کي بحريہ کي ايک تقريب سے خطاب ميں کہا ہے کہ خليج فارس ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے بغير امن و سلامتي قائم نہيں ہوسکتي - انہوں نے کہا کہ صرف اسلامي جمہوريہ ايران ہے جو خليج فارس ميں امن و سلامتي کو يقيني بناسکتا ہے -  انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران صيہونيوں اور ان کے حاميوں کو کوئي اہميت نہيں ديتا - صدر مملکت نے کہا کہ ايراني قوم نے تاريخ ميں کبھي جارحيت نہيں کي ہے ليکن ہميشہ بہت اچھي طرح دفاع کيا ہے اور جارحين کو ايسي شرمناک شکست دي ہے کہ ايران پر حملہ کرنے والوں کي رسوائي تاريخ کا حصہ بن گئي ہے -  صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے بين الاقوامي ميدان ميں ايران کي ممتاز حيثيت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ، سمندروں ميں دور دراز کے علاقوں تک ايراني بحري بيڑوں کے جانے کو تاريخ ميں اہم موڑ قرار ديا اور کہا کہ بين الاقوامي سمندري علاقوں ميں ايراني بحريہ کي بھر پور موجودگي نے سب سے داد تحسين وصول کي ہے اور اس کو عالمي امور  کو چلانے ميں ايران کي توانائي کي ايک جھلک قرار ديا جاسکتا ہے –انہوں نے ايراني بحريہ کي کارکردگي کو قابل تعريف بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامي جموريہ ايران کي بحريہ نے امن و دوستي کا پرچم لہراديا ہے اورتکنيکي لحاظ سے ايران کي توانائي کو دنيا پر ثابت کرديا ہے -  اس موقع پر اسلامي جمہوريہ ايران کي بحريہ کے سربراہ ايڈميرل حبيب اللہ سياري نے بتايا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کے بحرين بيڑوں نے اپنے بين الاقوامي مشن ميں اب تک ايک ہزار چار سو بحري جہازوں کو تحفظ فراہم کيا ہے- انہوں نے کہا کہ ايراني بحريہ يقين دلاتي ہے کہ خليج فارس، بحرعمان اور خليج ہرمز ميں ملک کے مفادات کي اچھي طرح حفاظت کرے گي- ايراني بحريہ کے سربراہ نے بتايا کہ ايران اب تک بائيس بحري بيڑے بين الاقوامي مشن پر روانہ کرچکا ہے - اسلامي جمہوريہ ايران کے بحري بيڑوں نے اپنے بين الاقوامي مشن ميں، امريکا اور چين سميت دنيا کے بہت سے ملکوں کے تجارتي بحري جہازوں کو سمندري ڈاکوؤں سے بچايا ہے اور بين الاقوامي سمندر ميں امن قائم کرکے دنيا پر اپني طاقت و توانائي ثابت کردي ہے -اسلامي جمہوريہ ايران کي بحريہ کو اسي کے ساتھ ، انواع و اقسام کے بحري جہازوں اور سمندروں ميں استعمال ہونے والے وسائل کي تياري اور جديد ترين ٹکنالوجي  کے تعلق سے کسي بھي بيروني ملک کي مدد کي ضرورت نہيں ہے  چنانچہ ايراني بحريہ نے جماران نوعيت کے ڈسٹرائر ، چھوٹے بڑے جنگي بحري جہاز ، بحري ميزائل لانچر، اور انواع و اقسام کي ہلکي اور بھاري آبدوزيں تيار کرکے اس ميدان ميں بھي اپني توانائي ثابت کردي ہے-...../169