ابنا: امریکی صحافی "باری لانڈو" نے صہیونی ریاست کے بعض اعلی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ موساد اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں کے مابین ایرانی سائنسدانوں کے قتل کے مالی اخراجات کے سلسلے میں قریبی تعاون موجود ہے۔صہیونی ریاست کے ریڈیو نے باری لانڈو کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاض کی جانب سے اس سلسلے میں ایک ارب ڈالر مختص کیا گیا ہےمعروف تجزیہ نگار ثاقب اکبر اس موضوع پر کیا اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں: سعودی پادشاہت نے ہمیشہ سے شدت پسند، مخصوص اور نام نہاد اسلامی نظریے کو پروان چڑھانے میں مدد کی ہے، تیل کی دولت سے مالا مل یہ ریاست نہ صرف دہشت گردوں کی نظریاتی مدد بلکہ ایران مخالف عناصر کو مالی امداد دینے کے لئے بدنام ہو چکی ہے۔ سعودی عرب، سامراج اور صیہونیزم کے فائدے میں عرب ملکوں میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔ بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت اور مشرق وسطی میں عرب قوموں کے انقلابوں کو ناکام بنانے میں آل سعود کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اسی طرح شام میں آل سعود کی مداخلت اور شام میں بدامنی پھیلانے والوں کی حمایت جو کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے اشاروں پر جاری ہے اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سعودی عرب نے بحرین میں تواپنے فوجی اور ایجنٹ بھیج کر جنگي جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے جس کا اندازہ بحرینی عوام کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ چودہ فروری کے انقلاب کے اتحاد نامی بحرینی انقلابی گروہ کے بیان میں آیا ہے کہ سعودی عرب کی ظالم حکومت اسلامی بیداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور عرب قوموں کے انقلابوں کو سامراج اور صیہونیزم کے حق میں ہائي جیک کرنا چاہتی ہے، عراق کے بیشتر علاقوں میں بھی سعودی عرب کے وہابی دہشتگرد سرگرم عمل ہیں اور سعودی عرب نے بار بار تکفیر فتوے جاری کر کے عراقیوں کے قتل عام میں حصہ لیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی ملا شاہی مذہبی جنونیت کی مسلسل پرورش کر رہی ہے۔جب پاکستان، افغانستان، انڈیا، کینیا، انڈونیشیا اور ایران کی مشرقی سرحدی علاقے میں یا کہیں اور بمب دھماکے کئی جانیں لیتے ہیں تو ان دہشت گردوں کی مالی امداد کے ذرایع سعودی عرب ہی سے ہوتے ہیں۔ سعودی پادشاہت شدت پسندی کے نظریے کو پھیلانے، انتہا پسندی کی طرف ترغیب اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے میں غیر متزلزل طور پر مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔اگر اس بات کی وجہ تلاش کی جاۓ کہ آخر مغربی ممالک کے تمام تر شکوک و شبہات اور نگاہ سعودی عرب کے علاوہ دوسرے ملکوں پر ہی کیوں پڑتی ہیں اور وہ سعودی عرب کی طرف بند آنکھوں سے کیوں دیکھتے ہیں تو بہت سے جواب ملیں گے۔ ایک اہم وجہ مغربی ممالک کا تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب میں ذاتی مفاد بھی ہے۔ سعودی اشراف دنیا کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ خود بھی اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں مگر یہ ایک کھوکھلا دعوی ہے، جسکا مقصد دہشت گردی میں خود ملوث ہونے کو چھپانا ہے۔ اگر اس بات کو ذھن میں رکھا جائے کہیہ ایک پادشاہت ہے اور سعودی وہابی حکومت درحقیقت پس پردہ یہودی صہیونی ریاست کو مضبوط اور قوی بنانے کے امریکی منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو معاملہ واضع ہو جاتا ہے اور اسکی واضع نشانی عراق، بحرین، ،شام ،ایران اور دوسرے اسلامی ممالک میں مداخلت اور پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدّت پسندی کا پھیلاؤ اور مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کو اختلافی بنانا ہے اور مکہ اور مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیھم السلام کی قبروں کو منہدم کرنا ہے۔...../169
27 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 360355
ایک امریکی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کے قتل کے مالی اخراجات کو سعودی عرب نے پورا کیا ہے۔