24 اکتوبر 2012 - 20:30

شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي نے اپنے دورہ شام کي رپورٹ سلامتي کونسل کو پيش کردي ہے-

ابنا: سوريا الآن انٹرنيٹ ويب سائٹ کے مطابق بان کي مون کے ترجمان مارٹين نسيرکي نے بتايا ہے  کہ اخضر ابراہيمي نے شام کے صدر بشار اسد اور اسي طرح شام کے مختلف گروہوں کے نمائندوں اور سربراہوں سے ہونےوالي بات چيت کے بارے ميں جو عيد قربان کے موقع پر فائربندي کے تعلق سے تھي  اپني رپورٹ سلامتي کونسل ميں پيش کردي ہے –اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل کے ترجمان نے کہا کہ اخضر ابراہيمي نے عيد قربان کےموقع پر فائربندي کے لئے شام ميں حکومت اور مخالف گروہوں سے بات چيت کي اور اس فائربندي کا مقصد شام ميں صورتحال کو پرسکون بنانا ہے –بان کي مون کے ترجمان نے کہا کہ حکومت اور مخالف گروہوں، دونوں ہي کي طرف سے اخضر ابراہيمي کو مثبت جواب ملا ہے اور دونوں فريقوں نے عيد قربان کي تعطيلات کے موقع پر فائربندي پر اتفاق کيا ہے -سلامتي کونسل نے بھي اپنے منگل کے بيان ميں کہا تھا کہ وہ عيد قربان کے موقع پر شام ميں فائربندي کے بارے ميں اخضر ابراہيمي کي تجويز کا خير مقدم کرتي ہے اور سبھي متحارب فريقوں سے يہي توقع کرتي ہے کہ وہ فا‏ئربندي کے برسر عمل آنےميں مدد کريں گے - سلامتي کونسل کے بيان ميں سبھي متحارب  فريقوں سے کہا گيا ہے کہ وہ اس تجويز کي حمايت کريں -       واضح رہے کہ اخضر ابراہيمي نے اپنے دورہ شام ميں اس ملک کے صدر بشار اسد اور اس کے علاوہ کئي ديگر شامي حکام سے ملاقاتيں کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مخالف ليڈروں سے بھي ملاقات کي اور انہيں عيد قربان کي تعطيلات کے موقع پر فائربندي کرنے کي تجويز پيش کي -     واضح رہے کہ گذشتہ برس مارچ سے مسلح دہشت گرد گروہوں نے جنھيں سعودي عرب قطر اسرائيل ترکي اور امريکا کي حمايت حاصل ہے شام کے مختلف شہروں ميں بدامني اور عدم استحکام پيدا کررکھا ہے اور ان کي کوشش ہے کہ  شام کے عوام اور اس ملک کے سيکورٹي اہلکاروں کا قتل عام کرکے ان واقعات کي ذمہ داري شامي حکومت پر عائد کريں اور پھر شام ميں غيرملکي مداخلت کا راستہ ہموار کريں-...../169