15 اکتوبر 2012 - 20:30

طیارہ بردار جہاز سمیت امریکی جنگی جہازوں سے لے کے ڈیمونا ایٹمی پلانٹ تک ایرانی ڈرونز کی پروازیں۔ یہ خبر ابتداء میں مختصر سی تھی کہا گیا کہ اسرائیل کی ڈیمونا ایٹمی تنصیبات سے 50 کلومیٹر دور / پھر کہا گیا 40 کلومیٹر دور اور آخری صہیونی موقف کے مطابق ڈیمونا ایٹمی تنصیبات سے 30 کلومیٹر دور ایک نامعلوم بغیرپائلٹ کا طیارہ مارگرایا گیا ہے لیکن سیدحسن نصر اللہ نے ایک ہفتے تک صہیونی ماہرین کا حیرت زدگی سے بھرپور موقف سن سن کر اور دیکھ دیکھ کر کہا ہے کہ یہ طیارہ حزب اللہ کا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مصنوعات میں سے ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ (جو اب سید صادق الوعد کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں) کے اس بیان پر صہیونی ریاست نے ابھی تک کوئی قابل توجہ موقف نہیں اپنایا ہے لیکن سید کے اعلان کے بعد یہ سوال اٹھا ہے کہ ایران میں ڈرون کی مصنوعات کی صلاحیت کس حد تک ہے اور ایران میں مال غنیمت کے طور پر بٹھائے جانے والے امریکی الٹراماڈرن ڈرون "آرکیوـ170" کا ایرانی ڈرون صنعت کی ترقی میں کردار کتنا ہے؟
اس سے قبل بھی ایران نے دیسی ساختہ ڈرونز کے ذریعے لی جانے والی خلیج فارس میں امریکی جہازوں کی تصاویر شائع کی تھیں جن کی امریکیوں نے ابتداء میں تردید کردی لیکن کئی بار اس قسم کی تصویروں کی اشاعت کی وجہ سے انہیں ایرانی صلاحیت کا اقرار کرنا پڑا لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب آرـ کیو 170 امریکی ڈرون ایرانیوں نے نہیں پکڑا تھا۔ گویا ایران کی ڈرون صنعت تصور سے زیادہ قوی ہے۔
اس زمانے سے کئی سال بعد صہیونیوں نے ایک ڈرون کو مارگرایا اور بعض ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ ایرانی ڈرونز کی دوسری نسل کا طیارہ ہوسکتا ہے جو خلیج فارس میں اپنا امتحان دے چکا ہے اور صرف ایک بار امریکی جنگی جہاز اس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوسکے ہیں جس سے الیکٹرانک وارفئیر میں ایران کی غیرمعمولی طاقت کا کسی حد تک اندازہ لگانا ممکن ہوجاتا ہے۔
ہماری یہ بات سید حسن نصراللہ کی اس بات سے مطابقت رکھتی ہے کہ یہ ڈرون اس سے قبل بھی مقبوضہ سرزمینوں پر پرواز کرتا رہا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے گذشتہ جمعرات کو ایک نشری تقریر کے دوران صہیونیوں کے ان دعؤوں کا بھی جواب دیا کہ "ڈرون ڈیمونا سے کتنے فاصلے پر مارگرایا گیا ہے؟ اور کہا کہ یہ ڈرون ڈيمونا پر پرواز کررہا تھا کہ دشمن اس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوا۔ 
سوال: اس ڈرون نے ڈیمونا ایٹمی تنصیبات کی کس طرح کی تصویریں ایران کے حوالے کی ہیں؟ کیا اس ڈرون پر ہتھیار بھی نصب کئے جاسکتے ہیں؟
بہرحال ڈیمونا کے علاقےمیں گرایا جانے والا ڈرون اس کلاس کا پہلا طیارہ نہیں تھا جو فلسطین پر پرواز کرتا رہا تھا۔ اس ڈرون نے 150 کلومیٹر تک صہیونی فضائی دفاعی سسٹم "آہنی گنبد" کے اوپر پرواز کی اور نیٹو، امریکہ اور یہودی ریاست کے راڈار اس کا راستہ روکنے سے بے بس رہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے اگلی نسل کے طیاروں کی تیاری کے بعد صہیونی ریاست کے لئے مقبوضہ سرزمین کا ایک نقطہ بھی محفوظ تصور نہيں کیا سکے گا!۔
سوال: یہ طیارہ تو پرانا تھا اور اب سوال یہ ہے کہ آرکیو 170 ایران کے قبضے میں ہے جس کے سافٹ وئیر سسٹم کو اسلامی جمہوری ایران کی افواج نے ہیک کرکے اس کو صحیح و سالم فضا سے زمین پر اتارا تھا اور ایرانی اہلکاروں کے مطابق اس کو ڈیکوڈ کیا جاچکا ہے اور اسی کی ٹیکنالوجی سے مکمل آگہی حاصل کی جاچکی ہے اور ساتھ ہی کچھ دن قبل ایرانی اہلکاروں نے نئی نسل کے ڈرونز کی تیاری کا اعلان کیا تھا جن میں جدیدترین کا نام شاہد 129 ہے جو 1700 سے 2000 کلومیٹر دور تک اڑ سکتا ہے اور 24 گھنٹے فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے گوکہ یہ معلوم نہيں ہوسکا ہے کہ کیا شاہد 129 میں آرکیو 170 کی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے یا نہيں ہے۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

صہیونی فضائی دفاعی فورسز کا کمانڈر برطرف