ابنا: طالبان کے دہشت گردوں نے اسکول وین کو روک کر ملالہ یوسف زئی کی شناخت کرنے کے بعد اسے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا شدید زخمی حالت میں اسے پشاور منتقل کیا گيا جہاں ایک سخت آپریشن کے ذریعے اس کے سر سے گولی نکال دی گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے پختون قوم کو ڈرانے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی، کالعدم تحریک طالبان کو سپورٹ کرنی والے اب تو ان کی مدد چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے اس لیے اسے بیرون ملک لے جانے کا ارادہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ملالہ یوسفزئی پر فائرنگ سرکٹ ہاؤس سے چند گز کے فاصلے پر ہوئی جہاں پر پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر موجود ہیں اس حملے کے بعد دہشت گرد آسانی سے فرار ہو گئے اور وہ علاقہ جہاں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں اور عام لوگوں کو سکیورٹی کے سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے دہشت گرد دن دیہاڑے دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں اور کوئي ان کا راستہ روکنے والا نہیں ہوتا۔ ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے بزدلانہ حملے پر پورے پاکستان میں غم و غصے کی لہر کی دوڑ گئی اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، عمران خان ، نواز شریف ، منور حسن، چوہدری شجاعت حسین ، پرویز الٰہی سمیت سیاسی و مذہبی رہنماوٴں نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔سوات قومی جرگہ نے جرگہ کے مرکزی ترجمان ضیاء الدین یوسفزئی کی صاحبزادی ملالہ یوسفزئی سمیت بےگناہ اور معصوم بچیوں پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔قومی اسمبلی نے ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکی ہے۔ ارکان اسمبلی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کی جبکہ جذباتی خطاب میں خواتین ارکان آبدیدہ ہوگئیں۔ بعد میں ایوان نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمی بچیوں کا سرکاری خرچ پرعلاج کیا جائے اور مجرموں کو پکڑا جائے۔دوسری جانب وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے پاکستان کا مستقبل تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اس میں کامیابی نہیں ہو گی، پوری قوم اس واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مخصوص سوچ کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری قوم کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اس مائنڈ سیٹ رکھنے والوں کو شکست دینا ہو گی۔ جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردوں کا حملہ قابل مذمت ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ کرنے والے بتائیں کہ وہ اسلام کی کس طرح خدمت کر رہے ہیں، یہ جہاد نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو انسان نہیں کہا جا سکتا یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔اس بات میں کوئي شک و شبہ نہیں کہ اسلام کے نام اس قسم کی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے والے نہ صرف اسلامی تعلیمات سے عاری ہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں اور پورے پاکستان میں اس واقعہ پر غم و غصے کی لہر کی دوڑ گئی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام تر واقعات کے باوجود اس وقت بھی اس دہشت گردانہ اور رجعت پسندانہ سوچ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے اور مختلف اداروں میں اس سوچ کے حامل افراد سرایت کر چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہو پا رہی ہے۔ لیکن پاکستان کے عوام کی اکثریت اس سوچ کی مخالف ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کی رجعت پسندانہ اور دہشت گردانہ سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی سول سوسائٹی اٹھ کھڑی ہو اور نہ صرف طالبان دہشت گردوں بلکہ ان کے حامیوں کا قلع قمع کر دیں تاکہ ملک میں حقیقی امن قائم ہو سکے اور پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام دوبارہ حاصل کر لے۔
.....
/169