ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے جرمنی کے ہفتہ نامہ اشپیگل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےاعلان کیا ہےکہ ایران کے مطالبات پورے ہونے کی صورت میں ایران یورینیم کی افزودگی کو محدود کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں پرامید ہےاور اگر مغربی ممالک یورینیم افزودہ کرنے کےایران کے حق کو تسلیم کرلیں اور اس کے ساتھ ایران کے ایٹمی پلانٹس کے لئے ایٹمی ایندھن کی فراہمی کو بھی یقینی بنائيں تو ایران اندرونی سطح پر یورینیم کی پیداوار کو محدود کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لئے ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی ہونے کے بارے میں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں انھوں نے کہا کہ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہے۔
.....
/169