1 اکتوبر 2012 - 20:30

ایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ مسلح دہشت گرد ٹولے متعدد کاروائیوں میں ناکامی کے بعد شدید قسم کی پریشانی، افراتفری، انتشار وار جنون کی حد تک مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوچکے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق شام کے ایک تجزیہ نگار "عبداللہ المنینی" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلح دہشت گرد ٹولے کاروائیوں میں ناکامی اور شام کی مسلح افواج کی بروقت کاروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد شدید قسم کی پریشانی، افراتفری، انتشار وار جنون کی حد تک مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوچکے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق متعدد دہشت گردوں نے ناکامیوں کے بعد اجتماعی خودکشیاں کی ہیں۔ عبداللہ المنینی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے پس پردہ مسائل سے معلوم ہوا ہے کہ سب ممالک اور قوتوں کی کوشش یہی ہے کہ وہ بہت جلد مسلح گروپوں سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اور دہشت گردوں کے حامی ممالک بھی اپنے آپ کو بےگناہ شامی عوام کے قتل عام سے بری الذمہ قرار دلوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں حالانکہ ان کے ہاتھ شامی عوام کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: مسلح دہشت گرد گروپ "عنقریب بیرونی مداخلت" کے وعدوں اور شام میں بفر زون یا نو فلائی زون کے قیام سے مایوس ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی باور کرانا چاہتے ہيں کہ ان تمام مسائل کے باوجود وہ موجود ہیں اور شامی حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شام کو منہدم کرنے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست ترکی کو شام کے بحران میں گھسیٹ لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور ترکی کی حکومت نے باغیوں کو پناہ دینے اور انہیں ہتھیار اور ترکی کی سرزمین پر تربیت فراہم کرنے اور انہیں شام روانہ کرنے کی صہیونی ـ امریکی ذمہ داری قبول کی ہے؛ آج ترکی اپنے تمام دوست ممالک کو کھوچکا ہے اور یہودی ریاست واحد حکومت ہے جو رجب طیب اردوگان کی قیادت میں جسٹس پارٹی کی قربت چاہتی ہے۔ المنینی نے کہا: ترک حکومت سیاسی اور فوجی لحاظ سے پریشان اور مایوس ہے یہاں تک کہ اس ملک میں فوجی قیادت کی طرف سے تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور فوجی قیادت کو یقین ہے کہ اردوگان حکومت نے اعلان کئے بغیر ترکی کو بہت سے ممالک کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ہے۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں اردوگان حکومت نے عراق کے صدر جلال طالبانی اور وزیر اعظم نوری المالکی کو ترکی آنے کی دعوت دی تو دونوں نے ان کی دعوت ٹھکرا دی اور وہ ترکی آنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا: عراقی وزیر اعظم کا ترکی کا دورہ کرنے سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکی کے تعلقات شام ہی کے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی بحران اور تناؤ کا شکار ہوچکے ہیں اور ترکی اس وقت بحران، دہشت گردی اور تشدد کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ المنینی کا کہنا تھا کہ شامی عوام ترکی عوام کی طرف سے اردوگان حکومت کے جارحانہ اقدامات کی شدید مخالفت سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ ظالموں اور جارحوں کا جواب دے سکتے ہیں اور تاریخ اس حقیقت کو ثابت کرکے دکھائے گی کہ اردوگان حکومت نے ترک عوام کو کسی بھی حکومت سے زيادہ نقصانات پہنچائے ہیں۔

..... /169-110

 تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

حلب میں دہشت گردوں کا صفایا قطعی ہے / جرمن اخبار: بیشتر دہشت گرد اجنبی ہیں