24 ستمبر 2012 - 20:30

اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس سے خطاب ميں دنيا کے متعدد رہنماؤں نے بين الاقوامي روابط ميں مساوات اور اقوام متحدہ ميں اصلاح کي ضرورت پر زور ديا ہے-

ابنا: نامييا کے صدر ہيفائک پونے پوہامبا نے جنرل اسمبلي کے اجلاس سے خطاب ميں سلامتي کونسل کے موجودہ ڈھانچے کو غير جمہوري قرار ديتے ہوئے اس ميں اصلاح کي ضرورت پر زور ديا - انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بين الاقوامي امن و سلامتي کي ذمہ داري سلامتي کونسل کو سونپي ہے جبکہ بنيادي طور پر اس کا ڈھانچہ غير جمہوري ہے اور اس کو دنيا کے تمام ملکوں کا نمائندہ ادارہ نہيں کہا جاسکتا- ناميبيا کے صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کا قيام انسانيت کے تحفظ کے لئے عمل ميں آيا تھا اور يہ ہدف اسي وقت پورا ہوسکتا ہے جب اس کے سارے اراکين زور زبردستي سے کام لينے اور دوسروں کو ڈرانے دھمکانے سے پرہيز کريں –
لائيبيريا کے صدر ايلن جانسن نے بھي جنرل اسمبلي کے اجلاس سے  خطاب ميں کہا کہ دنيا تيزي کے ساتھ تبديل ہورہي ہے جس کے پيش نظر قانون کي حکمراني کي اہميت بڑھ گئي ہے - انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہيں کہ قومي اور بين الاقوامي سطح پر امن و سلامتي اسي وقت قائم ہوسکتي ہے جب ايسے قانون کي حکمراني ہو جو انصاف اور مساوات کي بنياد پر تيار کيا گيا ہو- بنين کے صدر بوني يابي نے اپنے خطاب ميں کہا کہ بين الاقوامي روابط کي بنياد ملکوں کے رقبے اور طاقت کو مد نظر رکھے بغير مساوات ہوني چاہئے –
اسي طرح گھانا کے صدر نے بھي قومي  اور بين الاقوامي دونوں سطح پر قانون کي حکمراني پر زور ديا اور کہا کہ ملکوں کے درميان مساوات باہمي احترام اور قانون کي حکمراني امن و سلامتي کي ضامن ہوسکتي ہے –

.......

/169