ابنا: پاکستان میں اس توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں کم از کم پندرہ افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے ،تاہم دوسرے ممالک میں حالات قابو میں رہے ۔ امریکہ میں اس توہین آمیز فلم کی اشاعت کے بعد فرانس نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز کارٹون شائع کردیئے ، فرانسیسی حکام نے اس سلسلے میں ہر طرح کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے ،فرانس یے وزیر داخلہ مینوئل والس نے کہاہے کہ اس بارے میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں ہر طرح کے احتجاجی مظاہروں کو ممنوع قرارد یدیا گیا ہے ۔ فرانس میں حفاظتی اقدامات سخت کردئیے گئے ہیں ۔ گذشتہ روز فرانس کی بلوا پولیس نے امریکہ اورصیہونیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شریک دسیوں مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔فرانس کے شہر لیل کے مسلمان جو اسلام خلاف امریکی فلم اور توہین آمیز کارٹون کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے فرانس کی بلوا پولیس نے تشدد کے ساتھ کچل دیا اور مسلمانوں کے احتجاج نہیں کرنے دیا ۔اگر چہ حکومت فرانس نے ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں کو غیر قانونی قراردیاتھا لیکن اس کے باوجود لیل شہر کے مر کزی میدان میں مسلمان محجبہ خواتین نے احتجاج کیا۔ فرانس کے شہر مارسی میں بھاری تعداد میں بلوا پولیس تعینات کردی گئی تھی تاکہ مسلمان احتجاج نہ کرسکیں ۔ فرانس کی وزارت داخلہ نے مسلمانوں کے مظاہروں کے خوف سے پہلے ہی امریکی سفارت خانے سمیت پیرس اور فرانس کے بڑے بڑے شہروں میں حفاظتی اقدامات سخت کردئیے تھے ۔ ایفوپ ادارے کے سروے سے پتہ چلتاہے کہ سینتالیس فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف فلم سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد شارلی ابڈو جریدے نے اسلام مخالف کارٹون شائع کرکے کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔گستاخانہ فلم کے خلاف پوری دنیا مین احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مسلم ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں بھی مسلمان مظاہرے کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ،جرمنی اور اٹلی میں بھی سیکڑوں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی اور آزادی بیان کے بارے میں فرانس سمیت یورپی ممالک کے دوہرے معیارات کے خلاف نعرے لگائے۔لبنان ،بنگلہ دیش اور نائجیریا میں بھی مسلمانوں نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے ، مظاہرین نے امریکی صدر باراک اوباما کے پتلے اور امریکی اور صہیونی ریاست کے پرچم نذر آتش کئے امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ عالم اسلام میں توہین آمیز امریکی فلم اور فرانس میں توہین آمیز کارٹون کے خلاف یورپین یونین کے رہنماؤں نے ان مظاہروں کو روکنے کی اپیل کی ہے ۔جیساکہ آپ کو معلوم ہے کہ توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہرین نے امریکی ،جرمنی اور برطانیہ کے سفارت خانوں پر حملے بھی کئے جبکہ لبنان میں امریکی فاسٹ فوڈریسٹورینٹ کے ایف سی کو نذرآتش کردیا گیا تھا ،ادھر یورپی یونین کی سربراہ کیتھرین اشٹن نے متعلقہ ممالک کے عہدیداروں سے سفارتی عملوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی استدعا کی ہے اور مظاہروں کو ختم کرکے امن ماحول قائم کر نے پر زور دیا ہے ۔
.....
/169