اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق شام کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر بشار الاسد نے حال میں مصری صحافتی وفد کے ملاقات کرکے انہیں شام کی صورت حال پر بریفنگ دی اور شام کو تباہ کرنے اور مزاحمت محاذ سے خارج کرکے صہیونی محاذ میں لاکھڑا کرنے کی سازشوں میں ملوث عرب ممالک کے بعض رازوں سے پردہ اٹھایا اور شام میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عرب ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے 1967 میں صہیونی ریاست سے ساتھ ساز باز کی تھی اور سعودی بادشاہی نظام نے ہی اسرائیل کو مصر پر حملے کے لئے اکسایا تھا جس کی وجہ سے عرب ممالک کو تاریخی خفت اٹھانا پڑی اور 22 عرب ممالک ایک چھوٹی سی ناجائز ریاست سے شکست کھاگئے۔ بشار الاسد نے کہا: آل سعود کے حکمرانوں اس بات پر فخر کررہے تھے کہ انھوں نے "جمال عبدالناصر" کے ناخن کھینچ لئے ہیں۔واضح رہے کہ جس طرح کہ نسیم حجازی نے بھی اپنی کتاب "پاکستان سے دیار حرم تک" میں لکھا ہے: "عرب نوجوان قومی غیرت جگانے والے جمال عبدالناصر کو اپنا ہیرو سمجھ رہے تھے"؛ چنانچہ عربوں کا یہ جذبہ آل سعود کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ آل سعود کو عرب ممالک کی قیادت کے لئے بنایا گیا تھا اور وہ حرمین شریفین اور وہابی مفتیوں کی تشہیر مہم کے ذریعے پورے عالم اسلام کے قائد و امام بننے کی سوچ رہے تھے۔آل سعود کے ذرائع نے آل سعود کی آبرو لوٹانے کی کافی کوشش کی لیکن بشار الاسد کے الزامات کو پوری عرب دنیا میں صحیح مانا گیا۔بشار الاسد نے مصری اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب، قطر اور ترکی شام کے مخالفین کی حمایت کررہے ہیں اور انہیں ہتھیاروں سے لیس کررہے ہیں اور انہیں بھاری مالی امداد فراہم کررہے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ "مسلح عناصر اس جنگ میں کامیاب نہيں ہوسکیں گے"۔ بشار الاسد کا موقف مصری ذرائع میں شائع ہوا تو یہ ان کا موقف دنیا بالخصوص عرب ممالک میں "نیوز بم" میں تبدیل ہوا چنانچہ شام مخالف عرب ممالک ـ بالخصوص سعودی عرب ـ عرب اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے اپنی ناکام کوششوں کا آغاز کیا۔الشرق الاوسط کے کالم نگار، سعودی چینل "العربیہ کے پہلے سربراہ اور وہابی سلفی نظریات کی بنا پر بدنام "عبدالرحمن الراشد" نے نہایت کمزور انداز سے آل سعود کو اس بم سے بچانے کا اہتما کرتے ہوئے لکھا:٭ بشار الاسد نے 1967 میں مصر پر اسرائیلی حملے میں سعودی عرب کو پس پردہ کردار کا الزام لگایا ہے جبکہ وہ 1967 میں صرف 10 سے کے بچے تھے!!!٭ ہمارا خیال یہ ہے کہ بشار الاسد کے والد اور شام کے سابق صدر حافظ الاسد، جو اس وقت شام کے وزیر دفاع تھے، نے 1967 میں عربوں کی شکست کے اسباب فراہم کئے ہونگے!!!عجبا ایک اخبار نویس اتنا گھبراسکتا ہے کہ وہ خیال اور گمان کو کسی فیصلے کی بنیاد قرار دے؟ کیا سعودی خاندان کو ان کے اس جوابی اقدام سے کوئی فائدہ ملا؟ کیا بہتر نہيں ہے کہ دفاع کی قوت نہ ہونے کی صورت میں انسان خاموش رہے تا کہ مزيد غلطی نہ کرے؟ بہرحال الراشد کے اس موقف سے مصر پر 1967 کا حملہ اور عربوں کی شکست آل سعود کے گلے پڑ گیا ہے۔ الراشد نے بوکھلاہٹ کی انتہا پر، بشار الاسد کے الزام کا جواب دینے کے بجائے سوال اٹھایا ہے کہ: ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بشار الاسد کی فوج ملک کا کنٹرول کھوجانے کے بعد سنبھل کیونکر گئی؟ اور پھر اپنی اس بات کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے: بشار الاسد کی استقامت کا سبب عراق ہے!!!الاہرام العربی نے بشار الاسد کی یہ باتیں "صدر شام کے ساتھ خصوصی انٹرویو" کے عنوان سے شائع کیا تھا لیکن صدر اسد کے ترجمان نے کہا: مصری اخبارنویسوں کے ساتھ صدر اسد کی بات چیت دوستانہ تھی اور کسی قسم کا کوئی انٹرویو انجام نہيں پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
بشارالاسد کا نیوز بم آل سعود لرزہ براندام؛
بشارالاسد: 1967 میں عربوں کی شکست آل سعود ـ اسرائیل سازبازکا نتیجہ
22 ستمبر 2012 - 20:30
News ID: 350190
بشار الاسد نے حال ہی میں مصری روزنامہ نویسوں کے ایک گروہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود نے 1967 میں مصر کو ناکام کرنے کے لئے یہودی ریاست سے ساز باز کی تھی جس کی وجہ سے عرب ممالک وہ جنگ ہار گئے تھے۔ سعودی قلم کاروں کی پردہ پوشی اس بم کا ناکارہ بنانے میں ناکام ہوچکی ہے۔