18 ستمبر 2012 - 19:30

بحرین کی آل خلیفہ حکومت کے غیرانسانی اقدامات نے اب نئی صورت اپنائی ہے کیونکہ بادشاہ کی اولاد اور آل خلیفہ خاندان کے افراد جیلوں میں بند انقلابیوں کو ٹارچر کررہے ہیں جس سے یہ مسئلہ مزید قابل قابل تامل بن چکا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی نہ صرف عوامی مطالبات کی طرف توجہ دینے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اپنے کرائے کے غنڈوں کے وسیلے سے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے افراد کے توسط سے بھی عوام کو ٹارچر کررہے ہیں۔ خلیفی بادشاہ نے عوام کو اذیتیں دینے کی کھلی چھوٹ دی رکھی ہے۔ یہ استبدادی حکومت بسیونی کی ٹیم تشکیل دے کر قوانین کی پاسداری کا لبادہ اوڑھنے کے باوجود بحرین کے تمام عمائدین کو جیلوں میں بند کرچکی ہے اور کمسن بچوں سے لے کر بڑے بوڑھوں تک اس کے ظلم سے محفوظ نہيں ہیں۔ آل خلیفہ کی سے وابستہ اندرونی اور بیرونی غنڈے نہ صرف عوام کو ممنوعہ ہتھیاروں اور زہریلی گیسوں کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ ان کے گھروں پر حملے کرکے لوگوں کی رقم لوٹتے ہیں اور گھر کا سامان چوری کرتے ہيں اور جو سامان اٹھانے کے قابل نہ ہو اس کو تباہ کردیتے ہیں۔ وہ چادر اور چاردیواری کا لحاظ نہيں رکھتے اور انسانی حقوق کے شعبے کے فعال افراد کے ساتھ بچوں اور خواتین کو بھی گرفتار کرلیتے ہیں اور پھر انہیں ٹارچر کرکے ان سے اپنی مرضی کے اعترافات لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ آل خلیفہ حکومت نے جنیوا میں بحرین میں عوام کو آزار و اذیت دینے کے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس کی آمد پر انسانی حقوق کونسل کی ویب سائٹ بلاک کی ہوئی ہے۔ لیکن جس موضوع کا المنار ٹی وی نیٹ ورک نے انسانی حقوق سوسائٹی کے حوالے سے جائزہ لیا ہے وہ حقیقتاً قابل غور ہے۔اس رپورٹ میں آل خلیفہ خاندان سے وابستہ ان افراد کا تعارف کرایا گیا ہے جو جیلوں میں بحرینی عوام کو اذیت و آزار دیتے رہے ہیں اور ان کو ٹارچر اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں نیز ان افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو ان افراد کے تشدد کا نشانہ بنے ہیں:ٹارچر دینے والے کون ہیں؟ناصر بن حمد آل خلیفہوہ بادشاہ حمد بن خلیفہ بن سلمان کا بیٹا ہے جس کی سن پیدائش 1987 ہے۔ وہ ہے تو کمسن لیکن استبدادی نظام کے باعث بحرین رائل گارڈ کا کمانڈر بنا ہوا ہے۔ اس کا عہدہ صرف یہی نہیں ہے بلکہ وہ سپریم یوتھ اینڈ سپورٹس کونسل اور بحرین اولمپک کمیٹی کا سربراہ بھی ہے۔ ناصر حمد بن عیسی کی چوتھی نرینہ اولاد ہے اور اس کی بیوی شائعة بنت حسن الخريشی العجمي ہے۔

 

1

خالد بن حمد آل خلیفہیہ خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کا پانچواں بیٹا ہے جو فرسٹ لیفٹننٹ کی حیثیت سے بحرین کی دفاعی فورسز میں مصروف ہے اور اس نے سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی بیٹی "سحاب" سے شادی کی ہے یوں وہ سعودی بادشاہ کا داماد ہے۔

2

نورۃبنت ابراہیم آل خلیفہ

یہ ایک لڑکی ہے جس کا تعلق آل خلیفہ خاندان سے ہے اور یہ اینٹی نارکوٹکس کے ادارے میں کامی کررہی ہے اور لوگوں کو اذيت دینے، لوگوں کے گھروں پر حملے کرنے وار خواتین اور بچوں کو مختلف قسم کی اذيتوں سے دوچار کرنے جیسے شرمناک اقدامات میں ملوث ہے۔ گویا وہ بحرین میں وہی کچھ کررہی ہے جو بحرینیوں کو لیبیا کی خطرناک ترین عورت "ہدی بنت عامر" کی یاد دلاتی ہے۔ ہدی بنت عامر قذافی کے حکم پر عوام کے ساتھ وہی برتاؤ کرتی رہی تھی جو نورہ بنت ابراہیم آل خلیفہ بحرینیوں کے ساتھ روا رکھتی ہے۔

 3

 خلیفہ بن احمد آل خلیفہیہ شخص بحرین کے جنوبی صوبے کی پولیس کا سربراہ ہ کرنل ہے اور آل خلیفہ خاندان کا یہ شخص لوگوں کے گھروں پر تشدد آمیز حملوں، عوام کو ہراساں کرنے، بچوں اور خواتین کو جارحیت کا نشانہ بنانے، مخالفین کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے، مخالفان کے خلاف ہر ممکن اقدامات کرنے اور جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو مختلف قسم کے مسائل سے دوچارکرنے اور تنگ کرنے میں ملوث ہے۔ یہ شخص ستمبر 2011 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے موصول ہونے والی بے انتہا عوامی شکایات کی بنا پر ہٹایا گیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اب بھی عوام کو اذيت دینے میں آل خلیفہ کے بادشاہ کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔

4

بادشاہ کے بیٹے یا آل خلیفہ خاندان کے کمسن اہلکاروں کی تنخواہیں آسمانوں سے باتیں کرتی ہے اور ایسی تنخواہیں آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی اعلی افسروں کو بھی نہيں ملتی۔ وہ ہیں تو کم سن لیکن بحرین پر پر مسلط خلیفی خاندانی مطلق العنانیت کی بنا پر بڑے بڑے مناصب پر قابض ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق العنان استبدادی حکومتوں میں سرکاری افسر اور اہلکار ان کی قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنا پر نہیں بلکہ خاندانی تعلق کی بنا پر متعین کئے جاتے ہيں اور یوں ایک نااہل حکومت عوام پر مسلط ہوجاتی ہے۔بحرینی چیس بورڈ کے مائیکرو کنگ (خوردبینی) بادشاہ کے خاندان کے بچوں کی اعلی مناصب پر تعیناتی سے بھی یہی کچھ سامنے آتا ہے کہ حتی اس چھوٹے استبدادی خاندان نے بڑی بادشاہتوں کی راہ پر چل کر حکومت کے چھوٹے سے چھوٹے مناصب سے لے کر بڑے سے بڑے مناصب اپنے خاندان میں محدود کردیئے ہیں شاید اس کی وجہ دوسروں پر یعنی زیر تسلط لوگوں پر ان کا عدم اعتماد ہو اور پھر بحرین میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان افراد کو مخالفین کو آزار و اذیت دینے کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں بحرین کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک خصوصی پروگرام میں ناصر بن حمد آل خلیفہ نے آل خلیفہ کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کو براہ راست دھمکیاں دیں اور عوام کے پرامن احتجاج کے مسلمہ حق کو کو پامال کرتے ہوئے ایک سرکاری ذریعۂ ابلاغ کو فتنہ انگیزي اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ بحرینی ویب سائٹس نے فاش کیا ہے کہ ناصر بن حمد جزیرہ السترہ کے مظاہرین کو جبر و تشدد بنانے کی خلیفی کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔

 شیخ عبداللہ عیسی المحروسشیخ عبداللہ عیسی المحروس المعروف "میرزا محروس" ایک عالم دین ہیں اور الزہراء (ع) خیراتی ادار کے نائب سربراہ ہیں۔ انہیں یکم اپریل 2011 کو البلادالقدیم کے علاقے میں اپنے ایک عزیز کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور "القرین" نامی اذيتکدے میں اسیری کے ایام گذار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناصر بن حمد آل خلیفہ نے انہیں بدزبانی اور روحانی طور پر اذیت و آزار کے ساتھ ساتھ متعدد بار نہایت خوفناک مقام پر قید تنہائی کاٹنے پر مجبور کیا ہے اور انہیں بارہا جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

5

 شیخ محمد حبیب المقدادجمعیۃالزہراء (س) کے سربراہ اور بحرینی عالم دین "شیخ محمد حبیب المقداد"، یکم اپریل 2011 کو گرفتار کئے گئے اور انہیں القلعہ کے علاقے میں القرین نامی اذیتکدے میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناصر بن حمد آل خلیفہ نے ان کو آزار و اذیت دی ہے اور کئی بار زد وکوب کیا ہے اور انہیں لہو لہاں کرکے خلیفی حکمرانوں کی تصویریں چومنے پر مجبور کیا ہے۔ 

6

محمد حسن محمد الجواد"محمد حسن محمد جواد" 22 مارچ 2011 کو النعیم پولیس سینٹر کے قریب ایک چیک پوسٹ پر گرفتار کئے گئے اور انہیں الحوض الجاف نامی علاقے میں واقع خلیفی اذيتکدے میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے وقت خلیفی گماشتوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی کمر اور سر پر زخم آئے اور اس کے بعد انہیں نہایت خوفناک جگہوں پر بند کرکے رکھا گیا ہے۔ اور قید کے اس عرصے میں کئی مرتبہ خلیفی درندوں کے ہاتھوں ٹارچر کا نشانہ بنے ہیں ان کے ٹارچر کی نگرانی ناصر بن حمد آل خلیفہ نے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناصر بن حمد نے شیخ محمد المقداد، شیخ میرزا المحروس اور شہید کریم فخراوی کو بھی ٹارچر کیا ہے۔ واضح رہے کہ شہید کریم فخراوی آل خلیفہ کے ٹارچر کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں اور انہیں بحرین کے شہداء کے سردار کا نام دیا گیا ہے۔  7

آل خلیفہ کے تشدد کا شکار ایک گمنام قیدیوہ آل خلیفہ کے ظلم و جبر کا شکار ہوئے ہیں اور مزید تشدد کے خوف سے اپنا نام و نشان بتانے سے گریزاں ہیں کہتے ہیں: مجھے 16 اپریل 2011 کو قصر الصافریہ کے قریب چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا اور جن لوگوں نے میری گاڑی کی تلاشی لی ان میں خالد بن حمد آل خلیفہ بھی شامل تھا۔ اور اسی شخص نے مجھے مرکزالرفاع کے اذیت کدے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک اور قیدییہ قیدی بھی خوف کے مارے اپنا نام ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں انہیں بھی الصافریہ کے قریب گرفتار کرکے حمد ٹاؤن کی جیل میں رکھا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہيں خالد بن حمد آل خلیفہ نے ٹارچر کیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور نہایت ہتک آمیز انداز میں ان کی توہین کی ہے۔

ایک اور گمنام قیدی اس مظلوم بحرینی باشندے نے بھی اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انہیں آل خلیفہ کے کرائے کے غنڈوں کے نے گرفتار کیا جن میں "خالد بن حمد آل خلیفہ" بھی موجود تھا۔ کہتے ہیں: خلیفیوں نے مجھ سے میرا سیل فون چھین لیا اور اس میں ایک بحرینی عالم دین اور میدان اللؤلؤة میں عوامی احتجاجات کی تصویریں دیکھیں تو خالد بن حمد نے مجھے زدوکوب کرنا شروع کیا اوردوسروں نے بھی مجھ پرحملہ کیا اور مجھے گالیاں دیں اور فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی ہتک آمیز الفاظ ادا کئے اور مجھے مٹی اٹھا کر کھانے پر مجبور کیا۔ نوجوان انقلابی شاعرہ "آیات القرمزی"بحرین کی نوجوان انقلابی شاعرہ آیات القرمزی نے بھی قید کے دوران نورہ بنت ابراہیم آل خلیفہ کے ہاتھوں اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی خبر دی ہے۔

8

 ایک قیدی اورنام بتانے سے انکاری مظلوم بحرینی باشندے کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے آفس میں گرفتار کیا گیا اور مجھے گرفتار کرنے والا شخص خلیفہ بن احمد آل خلیفہ تھا جس نے مجھے شدید ترین اور غیرانسانی ترین ٹارچر کا نشانہ بنایا؛ وہ مجھ پر ہونے والے تشدد سے لطف اٹھا رہا تھا اور