ابنا: يہ بات ليبيا کي وزارت دفاع کے ترجمان عادل البرعصي نے طرابلس ميں نامہ نگاروں سے بات چيت کرتے ہوئےکہي۔برعصي کا کہنا تھا کہ حالات جو بھي ہوں امريکي فوجيوں کو ملک کے اندر مداخلت کي اجازت نہيں دي جائے گي۔انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ قذافي حکومت کے خلاف نيٹو کي کاروائي کے وقت سے ليکر آج تک امريکي بحري بيڑے بين الااقوامي سمندري حدود ميں موجود رہے ہيں اور ليبيا کي سمندري حدود ميں داخل نہيں ہوئے۔البرعصي نے کہا کہ ليبيا کي صورت حال کتني ہي خراب کيوں نہ ہو حکومت طرابلس امريکي بحري بيڑوں کو اپني سمندري حدود ميں داخل نہيں ہونے دے گي۔واضح رہے کہ ليبيا کے شہر بن غازي کے شہريوں نے منگل کي شب امريکي صہيوني سازش سے تيار ہونے والے توہين آميز فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امريکي قونصليٹ پر حملہ کرديا تھا جس ميں امريکي سفير سميت چار سفارتکار ہلاک ہوگئے تھے۔دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ سي آئي اے کے اہلکاروں نے بن غازي ميں امريکي سفير کي ہلاکت کے حوالے سے گرفتار کئے جانے والے ليبيائي شہريوں سے آزادانہ تفتيش شروع کردي ہے۔...../169
16 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 348389
امريکہ بحري جنگي جہازوں کو کسي بھي صورت ميں ليبيا کے اندر مداخلت کي اجازت نہيں دي جائےگي۔