15 ستمبر 2012 - 19:30

انقلاب دشمن ایم کے او دہشت گرد ٹولے کا سرغنہ مسعود رجوی عراق کے خلاف لڑنے کے لئے فری عراقی آرمی نامی دہشت گرد ٹولے کی کمانڈ سنبھالے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایم کے او (منافقین) دہشت گرد ٹولے کے سرغنے مسعود رجوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد عراقی آرمی نامی دہشت گرد ٹولے کی کمانڈ سنبھالے گا اور اس کو بغداد اور تہران کے خلاف "نیا مشن" سونپ دیا گیا ہے جس کا وہ عنقریب آغاز کرنے والا ہے اور اس دہشت گرد ٹولے کی ذمہ داری مغربی عراق میں عراقی فورسز پر حملے کرنا ہے۔ اردن کے دارالحکومت میں تعینات یوکرینی روزنامے "کیف" کے نامہ نگار کے مطابق مسعود رجوی کو امان کے ایک مقامی ہوٹل میں دیکھا گیا اور اس نے اس نامہ نگار سے کہا کہ وہ بہت جلد عراقی حکومت کے خلاف باقاعدہ جنگ کے آغاز کے لئے "فری عراقی آرمی" نامی دہشت گرد ٹولے کی کمانڈ سنبھالے گا۔ عراق سے حال میں نکالے جانے والے رجوی نے دعوی کیا کہ وہ عراق سے ایران میں بھی دراندازی کرکے اس ملک کی حکومت کا تختہ بھی الٹ دے گا!دریں اثناء یوکرینی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ رجوی بہت زیادہ نحیف ہوچکا ہے اور اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ہے اور اس کے چہرے میں بیماری اور تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھے۔ نکتے کی بات: امریکہ، اسرائیل اور ان کے عرب حلیف سعودی عرب اور قطر کی بیچارگی دیکھئے کہ اب ایک جلے ہوئے اور آزمائے ہوئے ناکام مہرے کو اب عراق اور ایران کے خلاف استعمال کرنے کے لئے سرمایہ کاری کریں گے۔واضح رہے کہ عراق میں "الاشرف" نامی دہشت گرد کیمپ سے آج ایم کے او منافقین کے باقیماندہ دہشت گردوں کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ اس دہشت گرد ٹولے نے گذشتہ تیس برسوں کے دوران ایران میں دہشت گردی کی کئی کاروائیوں میں شرکت کی ہے اور عراق میں صدام کے ساتھ مل کر کردوں اور شیعیان عراق کے خلاف متعدد کاروائیوں میں شرکت کی ہے جبکہ 1987 میں اس گروہ کے دہشت گردوں نے سعودی فورسز کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایرانی حجاج کے قتل عام میں شرکت کی اور اسی سال عراق سے ایران پر حملہ کیا جس میں اس کو دندان شکن شکست نصیب ہوئی اور اس کا زور ٹوٹ گیا جس کے بعد صدام کے مفادات کے خلاف عراقی عوامی کے خلاف سرگرم عمل رہا۔ اس وقت اس دہشت گرد ٹولے منافقین کے 2000 ہزار دہشت گرد، امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، فرانس، آل سعود، ترکی، قطر، اور بعض دوسری خلیجی ریاستوں کے حمایت یافتہ القاعدہ اور دوسرے دہشت گروپوں کے ساتھ مل کر شام کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ادھر عراق کے رکن پارلیمان اور سلامتی و دفاع کی پارلیمانی کمیٹی کے رکن "اسکندر وتوت" نے حال ہی میں اعلان کیا کہ موثق شواہد و اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، قطر اور ترکی نے بعض دہشت گرد ٹولوں کے اندر بھرتیاں شروع کروا رکھی ہیں تا کہ ان تمام گروپوں کو منظم کرکے شام کے خلاف لڑنے والی فری سیرین آرمی کی مانند ایک منظم فورس تیار کرکے اس کو فری عراقی آرمی کا نام دیں اور یہ ٹولہ عراقی حکومت کے خلاف ان ممالک کی سازشوں کو عملی جامہ پہنائیں۔ وتوت نے کہا: پارلیمان کی سلامتی و دفاع کمیٹی عنقریب ان شواہد و معلومات کو پارلیمان کے نمائندوں کے ساتھ بحث کے لئے پیش کرے گی اور اس سازش کا سامنا کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے گی اور اس کمیٹی نے وسطی فرات کے صوبوں میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے خلاف فوری طور پر کاروائیوں کا آغاز کریں۔انھوں نے کہا: مذکورہ ممالک کے کرائے کے دہشت گرد ٹولوں نے ان علاقوں میں عوام سے ان کے ذاتی ہتھیار ـ بڑی رقوم دے کر ـ خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ان علاقوں کے عوام نہتے ہوجائیں اور سعودی،قطری و ترکی سازشوں پر عملدرآمد کے لئے مناسب ماحول تیار کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ عراقی اس سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور عراق کے سنی، شیعہ، کرد اور ترکمن عوام آگاہ و ہوشیار ہوکر اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔................./110