ابنا: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے پیغمبر اسلام (ص) کے بارے امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے دنیائے عالم میں کسی بھی مذہب یا مکتب کے بارے میں توہین آمیز اور دل آزار اقدام اخلاقی حوالوں سے قطعی درست نہیں اور عالم اسلام اور پیغمبر گرامی (ص) کی توہین امت مسلمہ کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ دنیا بھر میں عالم اسلام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آنا فطری امر ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہان اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی اس پر موثر اور جاندار انداز میں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے۔ کیونکہ ماضی میں سویڈن، ڈنمارک اور جرمنی میں توہین آمیز خاکوں اور دل آزار مواد کی شکل میں امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا چکی ہے اور اس منفی عمل کا تسلسل کے ساتھ جاری رہنا انتہائی افسوسناک ہے۔ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب کے متاثرہ اضلاع کے دورہ جات کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے اندرون سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور لاہور اور کراچی میں آتشزدگی کے سانحات میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ مغرب اپنی خودساختہ روایات اور اظہار رائے کی آزادی کا ڈھنڈورہ پیٹتے نہیں تھکتا، لیکن اس آزادی کی آڑ میں دوسرے مذاہب بالخصوص اسلام اور بانی اسلام کے خلاف ہر قسم کے توہین آمیز کارٹون اور خاکے شائع کرنے، فلم بنانے اور اس قسم کے تمام اقدامات کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، حتی کہ ایسے غلیظ اقدامات کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کرتا، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کرتا ہے۔دوسری طرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خلاف توہین کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے مرتکب شخص کے لیے کڑی سزا مقرر کی گئی ہے، لیکن مسلمانوں کے رہبر و پیغمبر (ص) کی توہین کے مرتکبین کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، یہ کھلا تضاد مسلمانوں کو مختلف انداز سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ یورپی ممالک اور ان میں موجود گستاخ عناصر کی جارحانہ اور گستاخانہ کارروائیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے بعض گروہ جارحیت کی طرف مائل ہوتے ہیں اور معاملہ دہشت گردی اور قتل و غارت گری تک پہنچ جاتا ہے، جس کے بعد پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یک طرفہ جارحیت کا آغاز کر دیا جاتا ہے اور پھر ختم نہ ہونے والی کارروائیاں جاری رہتی ہیں، جو ان دنوں دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں جاری ہیں۔...../169
15 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 348066
ایس یو سی کے سربراہ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی اس پر موثر اور جاندار انداز میں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے۔