13 ستمبر 2012 - 19:30

امریکا میں بننے والی اسلام مخالف فلم کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت متنازعہ فلم بنانے والوں کیخلاف کارروائی کرے۔ اسلام کے خلاف توہین آمیز رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام کے خلاف بننے والی فلم سے مسلمانوں کے جذبات مجروع ہوئے۔

ابنا: قرارداد وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے ایوان میں پیش کی۔ ایوان سے خطاب میں فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ساری قوم اسلام مخالف فلم کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اقوام عالم کو پاکستان کی سالمیت کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قرار داد کے متن کے مطابق دوسرے مذاہب کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا ہوگا۔ 

اس موقع پر قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ہمارے مذہب کیخلاف بات کرے تو کیا ہم احتجاج بھی نہ کریں، آزادی رائے ہر کسی کا حق ہے، اکثر یورپی ممالک میں کھلے عام نماز نہیں پڑھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ہمارے مذہب کو گالی دے ہمیں قبول نہیں، ہمارے مذہب کے بارے فلم بنانا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔
 
چوہدری نثار نے مزید کہا کہ اسلام کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں، ہم پر ڈرون حملے کئے جاتے ہیں، کسی کو خیال نہیں،حکومت ساڑھے 4 سال مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا رہی، غیر ملکی طاقتیں ہماری حکومتوں کو پہنچان چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔
.....
/169