ابنا: ایرانین سی اسوسی ایشن کی ویب سائٹ میں انجینیرنگ شعبے کے سربراہ علی رضا کبریائي نے کہا کہ ماضی میں بیرونی کمپنیاں اور ماہرین ساحلی منصوبے بناکر ان پر عمل درآمد کیا کرتے تھے لیکن اب ایران ان شعبوں میں خود کفیل ہوگيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کے لئے بندرگاہوں کی اہمیت کے پیش نظر کشتیرانی کی کمپینوں کو خدمات دینا اورساحلی علاقے میں پائدار عمارتوں نیز جیٹیوں اور دیگر تنصیبات نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت سمندری راستوں سے معیشت کو ترقی دلانے کے منصوبے تیار کررہی اور اس ھدف کے لئے سمندری ٹرانسپورٹ نیز اسکی تنصیبات اور دیگر متعلقہ شعبوں کی توانائیوں کا صحیح اندازہ لگایاجانا ضروری ہے۔ علی رضا کبریائي نے کہا کہ صنعت سیاحت، تجارت اور ماہی گيری کی صنعت میں سرمایہ کاری سے ان شعبوں میں رونق آئي ہے اور پرائيویٹ سیکٹر نے ساحلی منصوبون میں سرمایہ کاری کی ہے۔ علی رضا کبریائي نے کہا کہ ایران کے ساحلوں پر بڑۓ بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے گئے ہیں جو مشرق وسطی میں اپنی نظیر آپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی شہروں کا یونیفارم منیجمینٹ بھی انہی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھی ساحلی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔
.......
/169