27 اگست 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی کابینہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

ابنا: اجلاس میں ملک بھر میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور اس حوالے سے حکومت و سیکورٹی اداروں کی عدم توجہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیااور ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی، ٹارگٹ کلنگ، بالخصوص سانحہ بابو سر ٹاپ، سانحہ چلاس اور کوئٹہ میں شیعہ قتل عام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی خاموشی کیخلاف اجلاس میں پندرہ ستمبر کو اسلام آباد میں آل شیعہ پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا،کانفرنس میں تمام شیعہ تنظیموں کے سربراہان، جید علمائے کرام اور اہم شخصیات کو دعوت دی جائیگی ، اختتام پر مشترکہ اعلامیہ اور آئندہ کا لائحہ عمل جاری کیا جائیگا، اجلاس میں اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ لگا نے اور مختلف جماعتوں ، شخصیات اور متعلقہ ذمہ دار اداروں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اجلاس میں بتایا گیا گیا کہ نو اور دس ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا  جس میںملک بھر سے 80 سے زائد اضلاع کے تنظیمی عہدیداران اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے صوبائی عہدیدارن شریک ہونگے۔ تنظیمی کنونشن کے دوران ایم ڈبلیو ایم کی شوری عالی اور شوری نظارت کا اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا اس اجلاس کا ایجنڈے میں بھی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے  ایشو کو سر فہرست رکھا جائے گا ، شوری عالی کے اجلاس میںملک کی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور خوض کیا جائے گا اور اس ضمن میں اور مزیدتنظیمی لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس میں علما اور ٹیکنوکریٹ پر مشتمل ایک وفد گلگت بلتستان بھیجنے کی بھی منظوری دی گئی، یہ وفد گلگت بلتستان جا کر تمام سیاسی و مذہبی تنظیموں سمیت اہم شخصیات اور سانحات میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کرے گا.

..............

/169