ابنا: افغانستان ميں پچھلے دنوں کے دوران پوليس کے ہاتھوں امريکي اور نيٹو فوجيوں پر پانچويں بار حملہ ہوا ہے اگر چہ پانچويں حملے ميں کسي بھي امريکي يا نيٹو فوجي کو کوئي نقصان نہيں ہوا ليکن افغان عوام اور خاص طور پر افغان پوليس اور فوج ميں قابض قوتوں کے تئيں بڑھتي ہوئي نفرت کا اس سے بخوبي اندازہ لگايا جاسکتا ہے افغانستان ميں امريکا اور نيٹو کے فوجيوں کي ہلاکتوں ميں اضافے کے پيش نظر مغربي حکام بھي حرکت ميں آگئے ہيں اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھي اس طرح کے حملوں پر تشويش کا اظہار کيا ہے –رواں سال کے آغاز سے اب تک افغانستان ميں اب تک تين سو غير ملکي فوجي مارے جاچکے ہيں جن ميں زيادہ تر امريکي فوجي شامل ہيں –افغانستان کے مسائل پر نظر رکھنےوالے ايک سرکردہ تجزيہ نگار پروفيسر بخت محمد کا کہنا ہے کہ افغانستان ميں امريکا اور نيٹو پر افغان پوليس اور فوجيوں کي طرف سے ہونےوالے حملوں ميں اضافے کي ايک وجہ يہ ہے افغان پوليس اور فوج ميں سخت نظرئے کے حامل افراد داخل ہوگئے ہيں مذکورہ تجزيہ نگار کا کہناہے کہ افغانستان کےعوام کو طالبان کي حکومت کے خاتمے کے بعد يہ توقع تھي کہ غير ملکي افواج ملک ميں امن و امان برقرار کرنے ميں کامياب ہوجائيں گي ليکن گيارہ سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد ابھي تک غيرملکيوں نے افغان عوام سے جو وعدہ کيا تھا ان ميں سے ايک بھي پورا نہيں ہوا اور اب يہي غير ملکي فوجيں افغانستان ميں بد امني کا باعث بني ہوئي ہيں اس درميان ايک اور تجزيہ نگار قاضي محمد حسن حق يار کا بھي کہنا ہے کہ افغان عوام اپنے ملک ميں اغيار کي فوجي موجودگي کے تئيں اپني مخالفت کا اظہار کرنے کي غرض سے غيرملکي فوجيوں پر حملے کرنے کا کوئي بھي موقع ہاتھ سے جانے نہيں ديتے انہوں نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ صرف دو دنوں ميں افغان شہري اور پوليس کے ہاتھوں چھ امريکي فوجي ہلاک ہوگئے ہيں افعان عوام خواہ وہ فوج ميں ہوں يا کسي اور سيکورٹي ادارے ميں سببھي اپنے ملک ميں اغيار کي فوجي موجودگي کے خلاف ہيں اسي لئے وہ غيرملکي فوجيوں پر حملے کرنے کے تعلق سے کوئي بھي موقع ہاتھ سے جانے نہيں ديتے –افغان تجزيہ نگار قاضي محمد حسن حق يار نے اس بات کا حوالہ ديتے ہوئے کہ اس ميں شک نہيں کہ اغيار کي فوج پر حملے ميں زيادہ طالبان ملوث ہيں کہاکہ افغانستان کي فوج اور پوليس بھي عوام کا ہي حصہ ہيں اور وہ اپنے افغان بھائيوں کے خون سے جو ہاتھ رنگے ہوئے ہیں وہ انہيں آساني سے تحمل نہيں کرسکتے انہوں نے کہا افغانستان ميں تعينات غير ملکي فوجوں نے افغان عوام کے آداب و رسوم اور مذہبي رسومات کا کوئي بھي احترام نہيں کيا اور بارہا اس بات کا مشاہدہ کيا گيا ہے امريکي اور نيٹو فوجي مارے گئے افغان شہريوں کے اعضاء بدن اور ان کي لاشوں کي بے حرمتي کررہے ہيں بنابريں افغانستان ميں امريکا اور نيٹو کے فوجيوں پر ہونےوالے حملوں کو افغانستان پر قابض ملکوں کي مظلوم نمائي ميں تبديل نہيں ہونے دينا چاہئے.
.......
/169