ابنا: فلسطین الیوم ویب سائٹ کے مطابق مصر کے عوام نے گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کرکے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قاہرہ میں میانمار کے سفارتخانے پر حملہ کرکے اس ملک کا پرچم اکھاڑ پھینکا اور اسے نذر آتش کردیا۔ مصر کے عوام نے مطالبہ کیا کہ میانمار کے سفیر کو ملک سے نکال دیا جائے اور میانمار کے ساتھ تعلقات منقطع کرلئے جائيں۔ مصر کی جماعت اسلامی کے سینئر رکن عاصم عبدالماجد نے کہا کہ ان مظاہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کرکے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے میانمار کے سفیر کو ملک سے نکال باہر کیا جائے۔ مصر میں ائمہ جمعہ نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی اور کہا کہ اسلامی اور عرب ملکوں کو میانمار کے سفیروں کو نکال دینا چاہیے۔ ادھر مصری ججوں کی انجمن کے سابق صدر نے کہا ہے کہ مصر کے عوام آئندہ دنوں میں بھی قاہرہ میں میانمار کے سفارتخانے کے سامنے احتجاج کریں گے۔ادھر ہندوستان میں اقلیتیوں کی یونین کے سربراہ عارف مسعود نے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپیل کی ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے اور اس ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔ یاد رہے میانمار کی حکومت مسلمانوں کو اقلیت تسلیم نہیں کرتی جبلکہ مسلمان اس ملک میں کئی صدیوں سے زندگي گزارتے آرہے ہیں۔
.....
/169