26 جولائی 2012 - 19:30

ترکي نے تعلقات معمول پر لانے کي اسرائيلي پيشکش مسترد کردي ہے۔

ابنا: قدس نيٹ کے مطابق ترکي کے وزير خارجہ نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ جب تک اسرائيل فريڈم فلو ٹيلہ پر حملے کے سلسلے ميں انقرہ سے باقائد معافي نہيں مانگتا  تعلقات معمول پر نہيں آسکتے۔اگر چہ ترکي اور اسرائيل کے درميان خفيہ سياسي اور تجارتي تعلقات بدستور قائم ہيں تاہم ترکي نے رسمي طور پر  اسرائيل کے ساتھ مذاکرات کو فريڈم فلوٹيلا حملے پر معافي مانگنے اور تاوان کي ادائيگي کے ساتھ مشروط کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔اسرائيل کے وزيراعظم بن يامين نيتن ياہو نے اپنے ايک حاليہ بيان ميں خطے کي بدامني کا ذکر کرتے ہوئے ترکي سے کہا تھا کہ وہ اسرائيل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کي کوشش کرے۔ترکي کي طرف سے اسرائيل سے اس بات کا اصرارکہ وہ معافي مانگے ايک ايسے وقت ہے جب دو روز قبل صہيوني ریاست کے وزير خارجہ ليبر ميں نے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ اسرائيل ترکي سے معافي نہيں مانگے گا۔واضح رہے کہ اسرائيلي کمانڈوز نے اکتيس مئي دوہزار دس کو ترکي سے غزہ جانے والے امدادي کارواں پر حملہ کرکے نو امن کارکنوں کو شہيد کرديا تھا۔اس حملے ميں درجنوں افراد زخمي بھي ہوئے تھے۔

.......

/169