ابنا: نيٹو نے سرکو نامي ٹھيکيدار کمپني کے ساتھ ايک معاہدے کے تحت آئندہ تين سال ميں افغانستان ميں موجود اپنے تمام فوجي اڈے مسمار کر ديے جانے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ سرکو کمپني کے پاس کے اس سےقبل عراق ميں بھي غيرملکي فوجي اڈوں کو ختم کرنے کا ٹھيکہ تھا۔افغانستان کے صدر حامدکرزئي نے نيٹو کے اس اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملک کے وزير دفاع کو حکم ديا ہے کہ وہ فوج اڈوں کي تخريب کا عمل روکنے اور انہيں افغان فوج کو واگذار کرانے کے لئے فوري اقدامات کريں۔افغانستان کي پارليمنٹ کے دفاعي کميشن کے ايک عہديدار نے بھي نيٹو کے اس اقدام پر کڑي نکتہ چيني کي ہے۔شکريہ بارکزئي کا کہنا تھا کہ ان اڈوں کي تعمير پر بھاري رقم خرچ کي گئي ہے لہذا انہيں توڑنے کے بجائے حکومت افغانستان کے حوالے کيا جانا چاہيے، انہوں نے کہا حکومت افغانستان ان اڈوں کو کلينک، اسکول اور سرکاري اداروں کےطور پر استمعال کرسکتي ہے۔اس رپورٹ کے مطابق افغانستان ميں تقريبا تيس ہزار عمارتيں غير ملکي فوجوں کے زير استعمال ہيں جن ميں تين سو انتہائي اسٹرٹجيک محل وقوع پر واقع ہيں- توقع کي جارہي ہے کہ سن دوہزارچودہ تک تمام غير ملکي فوجيں افغانستان سے نکل جائيں گي اور سيکورٹي کي ذمہ دارياں افغان پوليس اور فوج کے حوالے کردي جائيں گي۔
.......
/169