اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی فلم ساز "نجدت انزور" نے آل سعود کے تاریخی حقائق کو اپنی نئی فلم کا موضوع بنایا ہے جس میں وہ اس خاندان کے مکر و فریب کو برملا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ آل سعود نے ابتداء میں نجدت انزور کو رشوت کی پیشکش دے کر اس موضوع کو نظر انداز کرنے کی تلقین کی تھی لیکن اب اب سعودی حکومت نے انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔نجدت کا کہنا ہے کہ ان کی فلم اگست کے مہینے میں امریکہ اور کنیڈا سمیت دنیا کے 20 ممالک میں دکھائی جائے گی جس میں وہ آل سعودی کی فریبکاریوں سے پردہ اٹھانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ شامی فلم ساز نے اس فلم میں آل سعود کی بادشاہت کے بانی "عبدالعزیز بن سعود" کے حالات زندگی کو اپنے منظرنامے کا موضوع بنایا ہے جس کی وجہ سے آل سعود نے انہیں دھمکیاں دی ہیں۔ انھوں نے اس فلم میں اپنے ناظرین سے کہا ہے کہ یہ فلم عالم اسلام کے موجودہ حالات کے پیش نظر بنائی گئی ہے جس میں آل سعود اور قطر کا حکمران خاندان عرب ممالک کو نیست و نابود کرنے میں مغرب اور یہودی ریاست کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور ان کی کارکردگی پوری دنیائے اسلام پر براہ راست، اثرانداز ہورہی ہے۔ عراقی نیوز ویب سائٹ "البوابۃالعراقیۃ" نے لکھا ہے کہ نجدت انزور نے اس فلم میں آل سعود کی تاریخ کے وہ حصے برملا کرنے کی کوشش کی ہے جنہيں آل سعود نے رشوت اور ڈالر دے کر، عیاں نہيں ہونے دیا ہے یوں وہ آل سعود کی تاریخ کے خاموش گوشوں کی نمائش کا اہتمام کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ یہ پہلی فلم ہے جو پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ آل سعود خاندان کی تاریخ پر بات کرنا چاہتی ہے اور عبدالعزیز کی ذات کو موضوع بنا رہی ہے اور دنیا والوں کے سامنے آل سعود کی بادشاہت کے قیام میں عبدالعزیز کے خفیہ کردار کو طشت از بام کرنا چاہتی ہے۔ نجدت انزور کا کہنا ہے کہ یہ فلم ان کی فنکارانہ زندگی کی اہم ترین کاوش ہے۔نجدت کہتے ہیں: میں سیاستدان نہيں ہوں بلکہ ایک عام انسان ہوں؛ مکر و فریب اور ظلم و ستم سے نفرت کرتا ہوں اور میں نے اس فلم میں ایسی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو تاریخی دستاویزات پر مبنی اور مستند ہے۔
............
/110