15 جولائی 2012 - 19:30

شیعہ علماء کونسل کے سابق سینئر نائب صدر کے چہلم کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک مرتبہ پھر ہمیں دفاع پاکستان کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، لیکن ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ جہاں تکفیری گروہ ہوں گے، ہم وہاں ہرگز نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملی یکجہتی کونسل کے احیاء کے موقع پر بھی یہی کہا تھا کہ کہ ہم ہرگز تکفیریوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔

 ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں ایک سازش کے تحت اتحاد بین المسلمین کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، قوم و ملت کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، عدل و انصاف کے بغیر ملک میں امن و امان کا قیام ممکن نہیں، ملک عبداللہ جان بنگش کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، کارکنان آنیوالے الیکشن کی بھرپور تیاری کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علماء کونسل کے سابق سینئر نائب صدر ملک عبداللہ بنگش کے چہلم کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا اور اس وطن عزیز کو جمہوری اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہزاروں قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملک میں ایک سازش کے تحت اتحاد بین المسلمین کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اس کے باوجود اتحاد و وحدت پر یقین رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر امت مسلمہ خصوصاً پاکستان کا ترقی کرنا ممکن نہیں۔ شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے کہا کہ قوم و ملت کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں عدل و انصاف نہیں ہوتا، وہ تباہ ہو جاتا ہے اور جب تک ملک میں صحیح معنوں میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاتے، اس وقت تک امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے ملک عبداللہ جان بنگش کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و ملت کیلئے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقع پر انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اپنے اندر اتحاد کو فروغ دیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا ہے کہ ہم مسلح مقابلہ کے حق میں نہیں، سیاسی انداز میں مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، عزاداری ہمارا بنیادی، آئینی اور قانونی حق ہے، حسین (ع) حسین (ع) کرنے کیلئے ہمیں کسی سے پرمٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر میں اس مشن میں کامیاب نہ ہوا تو آئندہ نسل اس مشن کو کامیاب کرے، جہاں لائن میں کھڑا کرکے لوگوں کو گولیاں ماری جائیں، وہاں یکجہتی کی توقع نہیں کی جاسکتی، لیکن پھر بھی ہم نے اتحاد کی بات کی، سیاست میں ہمارا فیصلہ کن کردار ہوگا، جانتا ہوں کہ دہپشتگردوں کے تربیتی مراکز کہاں ہیں اور انہیں کہاں پالا جاتا ہے، ہم ملک میں عدل علی (ع) کا قیام چاہتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک عبداللہ جان کی قومی پلیٹ فارم سے وابستگی لازوال تھی، ان کی ملت کیلئے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، ان کا کہنا تھا کہ جس دستور کے تحت قائد شہید کا انتخاب ہوا، میں بھی اسی دستور کے تحت ہی منتخب ہوا، اس پلیٹ فارم کا صرف نام تبدیل ہوتا رہا ہے، لیکن پلیٹ فارم وہی ہے، انہوں نے کہا کہ تحریک جعفریہ کسی کی جاگیر نہیں، بلکہ قومی پلیٹ فارم ہے، ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر ملک میں تشیع کے حقوق کا دفاع کیا، ہم کسی مجبوری کے تحت اتحاد و وحدت کی طرف نہیں گئے، بلکہ ہم اس ملک میں اتحاد بین المسلمین کے بانیوں میں سے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام پر آج تک کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہوگا، ہم کسی طرف سے بھی غافل نہیں، ان کا کہنا تھا کہ دشمن تشیع کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری بنانا چاہتا تھا، لیکن وہ ناکام رہا، آج ہمیں اسلامی تہذیب سے دور کرنے کی سازش بھی کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک مرتبہ پھر ہمیں دفاع پاکستان کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، لیکن ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ جہاں تکفیری گروہ ہوں گے، ہم وہاں ہرگز نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملی یکجہتی کونسل کے احیاء کے موقع پر بھی یہی کہا تھا کہ کہ ہم ہرگز تکفیریوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کے احیاء کے موقع پر مجھے کہا گیا کہ ہم ایک فتویٰ جاری کر دیتے ہیں کہ شیعہ مسلمان اور ہمارے بھائی ہیں، میں نے کہا کہ ہمیں اپنی شناخت کیلئے کسی فتوے کی ضرورت نہیں، تشیع پاکستان کے اندر ایک حقیقت اور قوت ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف ہونے والی سازش اس ملک میں جاری کھیل کا حصہ ہے، ہم نے اسمبلیوں کے وہ دروازے بند کر دیئے ہیں، جہاں سے تشیع کے خلاف بل آسکے، عزاداری ہمارا بنیادی، آئینی اور قانونی حق ہے، حسین (ع) حسین (ع) کرنے کیلئے ہمیں کسی سے پرمٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر میں اس مشن میں کامیاب نہ ہوا تو آئندہ نسل اس مشن کو کامیاب کرے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ہم مسلح مقابلہ کے حق میں نہیں، سیاسی انداز میں مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ جھنگ سے جہاں تشیع کیخلاف فساد کا آغاز ہوا، وہاں مسلسل چوتھی مرتبہ ہم نے انہیں شکست دی، اور دشمن کے دشمن کی حمایت کرتے ہوئے سیاسی کامیابی حاصل کی گئی، انہوں نے کہا کہ جہان لائن میں کھڑا کرکے لوگوں کو گولیاں ماری جائیں وہاں یکجہتی کی توقع نہیں کی جاسکتی، لیکن پھر بھی ہم نے اتحاد کی بات کی، انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہمارا فیصلہ کن کردار ہوگا، تشیع کے خلاف دینی جماعتوں کی طرف سے کوئی غلط بات نہیں کی جاتی، صرف ایک گروہ ہے جس کو پالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سازش سے غافل نہیں، سب جانتا ہوں کہ کون کیا کیا کر رہا ہے، یہ بھی جانتا ہوں کہ دہپشتگردوں کے تربیتی مراکز کہاں ہیں اور انہیں کہاں پالا جاتا ہے، ہم ملک میں عدل علی (ع) کا قیام چاہتے ہیں، عدل علی (ع) کا قیام ہی ہمارا منشور اور ماٹو ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شیعہ علماء کونسل کا ساتھ دیں اور قومی پلیٹ فارم کو مضبوط کریں۔ دریں اثناء جلسہ عام سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے صدر علامہ محمد رمضان توقیر و دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ ملک و ملت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ آنیوالے الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے، اس لئے کارکنان تنظیمی سطح پر اپنے آپ کو متحد و منظم کریں اور الیکشن کی تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں اور آئندہ بھی اس سلسلے میں کاوشوں کو جاری رکھیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110