ابنا: شیعہ علماء کونسل خبیر پختونخوا کے زیر اہتمام شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعزازی نائب صدر اور ملت جعفریہ کے مرکزی رہنماء ملک عبداللہ بنگش کے چہلم کی مناسبت سے امام بارگاہ کوز خیل استرزئی بالا ہنگو میں منعقده اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف شیعہ عالم دین علامہ خورشید انور جوادی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں شیعان حیدر کرار (ع) پر اس قدر ظلم ہوا کہ بوریوں میں نعشیں بھر بھر کر بھیجی گئیں، ہمارے جوانوں اور بزرگوں کے سر تن سے جدا کرکے ان پرچیوں سمیت بھیجے گئے کہ اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمھارا بھی یہی حشر ہوگا، انہوں نے کہا کہ جنگوں کے باوجود حکمرانوں نے اس علاقہ کا رخ تک نہ کیا، وہ صوبائی حکومت جو اپنے آپ کو سیکولر اور امن کا علمبردار کہتی ہے کو کیا یہ معلوم نہیں کہ ہاشو خیل میں تشیع کے لاتعداد گھر مسمار کئے گئے اور ان کا ملبہ تک بیچا گیا، علی خیل کے ساڑھے دس ہزار لوگوں کو دربدر کیا گیا۔ صوبائی حکومت ہنگو میں امن کا مستقل حل نکالے۔
علامہ خورشید انور جوادی نے خیبر پختونخوا حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ہنگو کے عوام کو ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ امن چاہئے، عاشورہ کا مرکزی جلوس 2006ء سے قبل کی طرح برآمد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، ہم سر کٹا تو سکتے ہیں لیکن دہشتگردوں کے سامنے جھکا نہیں سکتے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کل ہنگو آرہے ہیں اور چند ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے علاقہ کا مسئلہ سڑکیں، نالیاں اور گلیوں کی پختگی نہیں بلکہ امن ہیں، ہمیں صرف امن فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی بڑی تعداد میں بے گناہ تشیع جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں، آج سینکڑوں افراد کا قاتل ملک اسحق دندناتا پھر رہا ہے لیکن بے گناہ غلام رضا نقوی جیل میں اپنے سر کے بال سفید کرنے پر مجبور ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہر مرتبہ کوشش ہوتی ہے کہ عزاداری کے جلوسوں کو محدود کیا جائے، 2006ء سے ہنگو میں عاشورہ کے مرکزی جلوس کو مارٹر گولوں اور راکٹوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے، اور عاشورہ کا مرکزی جلوس 2006ء سے قبل کی طرح برآمد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے ہنگو میں قیام امن کیلئے مثالی کردار ادا کیا تھا۔