ابنا: امريکي اخبار کے مطابق امريکا کو سلالہ چيک پوسٹ واقعہ پر پاکستان سے معافي مانگنے ميں اس لئے سات ماہ لگے کہ دونوں ممالک کے اعصاب شکن اور باہمي تباہ کن ’دوستانہ‘ تعلقات ہيں .ہليري کلنٹن کے 3جولائي کو اپني پاکستاني ہم منصب حنا رباني کھر سے فون پر سحر انگيز الفاظ تعلقات کو پھر نئے موڑ پر لے آئے، پاکستان کے لئے ہليري کلنٹن کي طرف سے معمولي سي معافي ’کہ ہميں پاکستاني فوج کے نقصان پر افسوس ہے‘نيٹو سپلائي کي بحالي کے لئے کافي تھي ، اخبار لکھتا ہے کہ امريکي صدر اوباما نے11نومبر2009کو پاکستاني صدر کے نام ايک خفيہ خط لکھا جس ميں عسکريت پسندوں کے خاتمے کے لئے نئے اور بہترراستے تلاش کرنے پر زور ديا گيا ،خط ميں کہا گيا تھا کہ عسکريت پسند پاکستان،خطے اور امريکا سميت دنيا کے ديگر حصوں ميں حملہ کرنے کي صلاحيت رکھتے ہيں لہذا ان کے نيٹ ورک کو ہم تبا ہ کر سکتے ہيں. اخبار کے مطابق پاکستاني صدر کي طرف سے اوباما کو ديا گيا جواب ممکنہ طور پر انٹيلي جنس ايجنسيوں کا ڈرافٹ کيا گيا تھا جس ميں دہشت گردي سے نمٹنے کے عزم کا اظہار تو کيا گيا تاہم افغانستان کي سرزمين کو بھارتي ايجنسيوں کي طرف سے پاکستان کے خلاف ايک جنگ کے طور پر استعمال کرنے کي بات کي گئي.حقاني نے اسلام آباد کو خبردار بھي کيا تھا کہ اوباما کے خط کے جواب ميں پاکستاني ردعمل قبول نہيں کيا جائے گا،ليکن ان کے اس پيغام پر غور نہيں کيا گيا.اخبار کے مطابق 20 اکتوبر، 2010 کو پاکستاني فوج کے سربراہ اشفاق پرويز کياني کے ساتھ وائٹ ہاو?س ميں اوباما کي ملاقات ہوئي جس ميں اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’اعتماد راتوں رات نہيں ہوتا، يہ کرنا پڑتا ہے ورنہ ہم تصادم کي راہ پر چل نکليں گے‘.بھارت کے ساتھ پروان چڑھتے امريکي باہمي تعلقات ايک دھمکي کي صور ت ميں سامنے آئے اور اوباما نے کياني کو واضح کہا کہ تمہاري انٹيلي جنس غلط ہے تم امريکي صدر سے يہ سن رہے ہو کہ امريکا مضبوط اور مستحکم پاکستان ديکھنا چاہتا ہے.اخبار کے مطابق اس وقت کياني نے جواب ميں14 صفحات کا ايک ميمو اوباما کے حوالے کيا جس ميں کہا گياتھا کہ پاکستان کو قرباني کا بکرا بنايا جا رہا ہے، امريکي مداخلت اور بڑھتے رسوخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امريکا پاکستان کو اپنے طور پر چلانا چاہتا ہے .امريکا پاکستان ميں منظم افراتفري برقرا ر رکھنے کا سبب بن رہا ہے.امريکي حکمت عملي کا بنيادي مقصد پاکستا ن کوغير مستحکم کرنا ہے اس ميمو کے آخري پيراگراف ميں کہاگيا تھا کہ آخر کار ہم کمرے ميں صحيح کونے پر کھڑے ہونا پسند کريں گے.اخبار کے مطابق سلالہ پوسٹ واقعے پر معافي کو جس طرح رپورٹ کيا گيا حقيقت اس کے برعکس اور عجيب ہے اوباما انتظاميہ پاکستان سے معافي مانگنے کيلئے کئي ماہ قبل عارضي فيصلے پر پہنچ چکے تھے.ليکن افغانستان ميں قرآن مجيد کونذرآتش کے واقعے کي وجہ سے وہاں پر فوري معافي مانگنا پڑي،اس کے بعد حنا کھر کي درخواست پر معافي کو التوا ميں ڈالا گيا کہ پاکستاني پارليماني کميٹي کا فيصلہ جب تک نہ ہو امريکا معافي کے فيصلے کو التوا ميں ڈال دے .پاک امريکا تعلقات کبھي بھي بہتر نہيں رہے ايک ماہ اسٹريٹجيک تعاون پر بات ہوتي تو دسرے ماہ اختلافات شروع ہوجاتے.ايک طرف دہشت گردي کے خلاف جنگ ميں دونوں ممالک اتحادي تھے.اگر ايک طرف کي انٹيلي جنس کوئي کارروائي کرتي تود دسري اس کو اپنے خلاف سمجھتي تھي.ان کشيدہ تعلقات ميں مفيد ترين پل حسين حقاني تھے انہوں نے مذاکرات قائم رکھنے اور کمزور سويلين حکومت کي نمائندگي کي کوشش کي. انہيں غداري کے الزامات پر فارغ کرديا گيا اب وہ رواں موسم خزاں ميں بوسٹن يونيورسٹي ميں پڑھائيں گے،وہ پاکستان کے لئے بے کار ہيں ليکن طلباء کيلئے بہتر ہوں گے . ......./169
14 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 329247
امريکي اخبار کے مطابق 20 اکتوبر، 2010 کو پاکستاني فوج کے سربراہ اشفاق پرويز کياني کے ساتھ وائٹ ہاوس ميں اوباما کي ملاقات ہوئي جس ميں اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’اعتماد راتوں رات نہيں ہوتا، يہ کرنا پڑتا ہے ورنہ ہم تصادم کي راہ پر چل نکليں گے.