14 جولائی 2012 - 19:30

سعودی سیکورٹی فورسز نے چوتھے شہید کی شہادت کا جواز فراہم کرنے کے لئے دعوی کیا ہے کہ مقتول نوجوان نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر العوامیہ کے پولیس اسٹیشن پر دیسی ساختہ پٹرول بموں سے حملہ کیا جس پر پولیس والوں نے ان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں عبداللہ جعفری الاجامی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اور باقی تین افراد بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پرسوں (13 جولائی) کی رات کو العوامیہ کے عوام نے آیت اللہ نمر اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا جو سو فیصد پرامن تھا تا ہم آل سعود کی فورسز نے نہتے اور پرامن شہریوں پر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں ایک اور شیعہ نوجوان نے جام شہادت نوش کیا۔ پر امن مظاہرین کے منتشر کرنے کے لئے آل سعود کی پولیس اور فوج نے العوامیہ کے عوام پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اٹھارہ سالہ نوجوان "عبداللہ جعفری الاوجامی" شہید ہوگئے۔

واضح رہے کہ گدشتہ اتوار کی شب بلادالحرمین کے شیعہ راہنما اور عالم دین اور العوامیہ کے امام جمعہ و جماعت آیت اللہ نمر باقر النمر کو زخمی کرکے اغوا ہوجانے کے بعد سے منطقۃالشرقیہ میں زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

آیت اللہ نمر کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پرنقل کیا گیا ہے اور حکومت اب تک بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے کہ آیت اللہ نمر کو کس اذیتکدے میں قید کیا گیا ہے اور ان کے زخموں کی صورت حال کیا ہے؟

سعودی حکمران اور لاشوں کی بےحرمتیویسے تو کہا جاتا تھا کہ جو وہابی دہشت گرد عراق، شام اور پاکستان میں شہیدوں کی بے حرمتی کرتے ہیں ان کے اس فعل کا تعلق وہابی مکتب اور بلادالحرمین پر مسلط آل سعود نامی قبیلے سے نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے "وہ نہایت متمدن لوگ اور ان کے مفتی نہایت تہذیب یافتہ مفتی ہیں لیکن آل سعود کے گماشتوں نے اس شہید نوجوان کی توہین کا ارتکاب کیا اور ان کی میت ٹایلیٹ کے اوپر پھینک دی جو درب ذیل تصویر میں واضح ہے۔

یہ توہین اتنی بھونڈی ہے کہ سماجی ویب بیسز پر لوگوں نے اس کے حوالے سے اپنی رائے دی اور کہا گیا ہے کہ "حیوانات بھی اس قسم کی توہین کا ارتکاب نہیں کیا کرتے"۔

آل سعود، شیعہ نوجوانوں کے سروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110