1 جولائی 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے مینار پاکستان پر منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دشمن اس وقت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے پانچ ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہا ہے۔ جس میں معاشرے کی اخلاقی اقدار کو پامال کرنا، ملک کے نظریئے اور افکار کو مسخ کرنا، حکومتوں کو کمزور کرنا، حکومت کو کمزور کرنے کے لئے عوام اور حکومت کے درمیان اختلافات ایجاد کرنا، روحانی قیادت اور عوام کے درمیان خلیج حائل کرنا اور عوام کے درمیان مختلف حیلے بہانوں سے تفرقہ پیدا کرنا۔ لیکن ہم ان تمام استعماری ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، ہم سب ایک ہیں۔

ابنا: مقررین نے کہا کہ ملت تشیع پرامن اور محب وطن ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں تشیع کا خون بہایا جا رہا ہے، چھوٹی چھوٹی بات پر چیف جسٹس سو موٹو لے لیتے ہیں لیکن ملت تشیع کی نسل کشی انہیں دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بانیان پاکستان ہیں، لیکن تمام حقوق سے محروم ہیں، ایسا کیوں ہے؟ حکومت اور سیاسی جماعتیں کیوں شیعہ نسل کشی پر خاموش ہیں؟ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے قتل میں ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۔

مقررین نے حکومتی ادروں کو متنبہ کیا کہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ملک خانہ جنگی کی طر ف جاسکتا ہے۔ مقررین نے مزیدکہا کہ ملت تشیع ہر قسم کی دہشتگردی کیخلاف ہے اور ملک میں امن چاہتی ہے، مگر اس خواہش کو کمزوری سمجھ کر مسلسل قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، حکومت فی الفور اس کا نوٹس لے۔۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل جناب مولانا ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہم عالمی استعمار امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس دنیا پر حاکمیت کا حق صرف اللہ کا ہے، جب اللہ کا امام آئے گا تو دنیا سے یزیدیت خود بخود مٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء ملت جعفریہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اور دشمن کا مقابلہ منظم ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے۔

مولانا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پارلیمنٹ سمیت جی ایچ کیو کا گھیراؤ کریں گے۔ جن اداروں کی ذمہ داری سیکیورٹی ہے انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو ہم انہیں گھروں سے نکلنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا اگر دہشتگردوں کا راستہ حکومت نے نہ روکا تو ہم مجبور ہوجائیں گے کہ ان کا راستہ روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، کیوں کہ یہ ہماری سالمیت کیخلاف ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو وطن کی بیٹی ہے اگر ہندو بھی ہوتی تو ہم حمایت کرتے ہیں، مجلس وحدت مسلمین اُس کی ملک واپسی کا مطالبہ کرتی ہے اور حکومت سے تقاضہ کرتی ہے کہ وہ اسے وطن واپس لانے کے اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے بعد کوئی سیاسی پارٹی شیعوں کو دھوکہ نہیں دے سکے گی، یہ ووٹ کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ علی ع اور حسین ع کا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ کسی دہشتگرد کو پارلیمنٹ میں نہیں جانے دیں گے، ہماری جانب سے معتدل غیرت مند شیعہ سنی امیدوار پارلیمنٹ جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم نے مجالس کیلئے کوئی اجازت نہیں مانگنی، یہ ہمارا آئینی حق ہے، جہاں دل کرے گا وہیں پر عزارداری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک میں عزاداری امام حسین ع عام ہوتی تو آج دہشتگردی عام نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں سے کہتا ہوں کہ اگر جس پارٹی نے دہشتگردوں سے کوئی معاہدہ کیا شیعہ قوم اس پارٹی کو ووٹ نہیں دیگی۔

مولانا راجہ ناصر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دہشتگرد چھوڑ دیئے لیکن مولانا غلام رضا نقوی آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ ہم ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ان کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو ہم سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ تم لوگ شیعیوں کے دشمن ہو۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ برسوں سے لہو لہو ہے، اگر ہم آج منظم ہوجائیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پی پی پی سے کہتا ہوں کہ اگر اس نے ملک بھر میں شیعیوں کی نسل کشی نہ رکوائی تو ہم پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اور پاکستان کے شیعہ اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے۔ .......

/169