اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی حکومت نے مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور بعض ذرائع ابلاغ نے ان کے انتقال کی خبریں شائع کی ہیں جبکہ بعض ٹی وی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ 89 سالہ سعودی بادشاہ کو صحت خراب ہونے کی بنا پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید افواج کو چوکس کرنے اور ہنگامی حالت کے اعلان کا تعلق بھی بادشاہ کی صحت سے ہے۔ دریں اثناء ایک سعودی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان کا تعلق سعودی عرب کے اندرونی حالات سے ہے۔ بلادالحرمین کے ایک سیاستدان حمزہ الحسن نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا سعودی بادشاہ کے انتقال کے بارے میں شائع ہونے والی متضاد خبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بادشاہ کے انتقال کی خبر حتمی نہیں ہے اور ابھی تک یہ ایک افواہ کی حد سے تجاوز نہیں کرسکی ہے تا ہم ہنگامی حالت اور افواج کو چوکس کرنے کا اعلان اور ملک کے اندر بعض دوسرے واقعات و حوادث سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں بڑی تبدیلی آرہی ہے، بادشاہ کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور افواج کو چوکس کرنے کا تعلق بھی بادشاہ کے اتنقال سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بادشاہ کافی عمر کے ہیں اور وہ متعدد بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں۔انھوں نے کہا: ہمیں ملنے والی بعض اطلاعات کے مطابق بادشاہ کا انتقال ہوچکا ہے اور یہ اطلاعات صحیح بھی ہوسکتی ہیں اور اگر یہ اطلاعات صحیح ہوں تو یہ بلادالحرمین میں بڑی تبدیلیوں نوید بھی ہے۔ اور یہ بادشاہتوں اور آمریتوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ جب وہاں کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو اس واقعے کو راز میں رکھا جاتا ہے اور ملک میں افراتفری سے بچنے اور حکمرانوں سے پہلے مخالفین اور عوام کے فعال ہوجانے کے خوف سے ہنگامی حالت نافذ کی جاتی ہے اور افواج کو چوکس کیا جاتا ہے۔ انھوں نے دو سعود ولیعہدوں "سلطان بن عبدالعزیز" اور "نائف بن عبدالعزیز" کے یکے بعد دیگرے انتقال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آل سعود کی حکومت کو ایک میز سے تشبیہ دی جس کے دو پائے "سلطان" اور "نائف" کی صورت میں ٹوٹ چکے ہیں اور اس وقت دو پایوں پر استوار ہے اور اگر ان بادشاہ عبداللہ یا ولیعہد سلمان بھی انتقال کرجائیں تو یہ میز گر سکتی ہے اور آل سعود کی بادشاہت سرنگون ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بادشاہ یا ولیعہد کی موت سے سعودی خاندان کے بعض افراد اور بعض طاقتور فوجی اور سیکورٹی حلقے فوجی بغاوت کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں چنانچہ افواج کو حفظ ما تقدم کے طور پر الرٹ کیا گیا ہے اور ہر قسم کی مخالف حرکت کو روکنے کے لئے ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے اور اندرونی مخالفین کو پیغام دیا گیا ہے کہ آل سعود کے خلاف کسی بھی حرکت سے باز رہیں۔ انھوں نے آل سعود کی طرف سے افواج اور سیکورٹی اداروں کو چوکس کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ریاض اپنے مخالفین اور عوام سے خوفزدہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ سعودی ایجنسیوں کو خبردار کیا گیا ہو کہ ملک میں وسیع عوامی بغاوت یا فوج کے بعض حصوں کی طرف سے فوجی بغاوت کا امکان ہے یا کم از کم آل سعود کو اس طرح کا کوئی خوف ہے گوکہ فی الوقت سعودی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی نظام کے دو ستون یعنی بادشاہ اور ولیعہد سلمان دونوں عمر رسیدہ اور بیمار ہیں۔ بادشاہ کی صحت کا حال یہ ہے کہ ہرروز ان کی انتقال کی افواہیں سننے کو ملتی ہیں جبکہ ان کے ولیعہد 77 سالہ سلمان بھی کئی بار آپریشن کروا چکے ہیں اور اگر بادشاہ کا انتقال ہوجائے تو یہ بیمار اور سیاسی حوالے سے نسبتا کمزور ولیعہد تنہا کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں اور وہ سعودی عرب کے مسائل کسی صورت میں بھی سدھار نہیں سکیں گے۔ حمزہ الحسن نے ان افواہوں کی تردید کردی کہ سعودی عرب میں ہنگامی حالت مصر میں محمد المرسی کی کامیابی کی وجہ سے نافذ کی گئی ہے اور کہا: مصر کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور قاہرہ کی جانب سے ریاض کو کوئی خطرہ لاحق نہيں ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کو پڑوسیوں کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہيں ہے بلکہ ہنگامی حالت کا اعلان درحقیقت سعودی عوام کے لئے آل سعود کا اندرونی پیغام سمجھی جاسکتی ہے۔ دریں اثناء اگر ایک طرف سے عبداللہ بن عبدالعزیز کی صحت کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کررہی ہیں تو دوسری طرف سے کئی ذرائع ابلاغ نے ان کی انتقال کی خبریں شائع کی ہیں اور اس کے باوجود کہ ان کے انتقال کی خبر کی سعودی بادشاہی دفتر نے سختی سے تردید کی ہے؛ ان ذرائع نے اپنی خبر کی صحت پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادشاہ کی انتقال کی خبر بالکل درست ہے لیکن عرب ممالک میں غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے سعودی حکام اس خبر کو راز میں رکھنا چاہتے ہیں۔بعض ذرائع نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ افواج اور سیکورٹی فورسز کو الرٹ کرنے کا براہ راست تعلق بادشاہ کی صحت کی خرابی سے ہے اور اگر وہ زندہ بھی ہیں تو [شاید] بہت جلد ان کا انتقال ہونے والا ہے!والـــــــــــلــــہ اعـــــــلم
پندرہ شعبان سے آل سعود کے خلاف عوامی تحریک کا آغازسعودی عرب میں مختلف جمعیتوں نے بے روزگاری کے خلاف قیام کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو مظاہروں میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں 15 شعبان سے "بے روزگاری کے خلاف" ملک گیر تحریک کا آغاز ہورہا ہے اور سماجی و سیاسی راہنماؤں نے عوام سے وسیع احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کی دعت دی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب مشرق وسطی اور شمالی افریقی ممالک میں بے روزگاری کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں وسیع بدعنوانیاں بے روزگاری کی اصل وجہ ہیں۔
سعودی عرب میں بے روزگاری سے نالاں عوام کی طرف سے عمومی قیام کا اعلان ایسے حال میں ہورہا ہے کہ آل سعود کے حکام تیل پیدا کرنے میں زیادہ روی کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک "روس" کے قریب جانے کی کوششیں کررہے ہیں تا کہ عالمی منڈیوں ميں تیل کی قیمتیں گر جائیں اور ایران کی معیشت کو نقصان پہنچایا جاسکے لیکن تیل کی اتنی بڑی مقدار سے حاصل ہونے والی آمدنی سعودی شہزادوں کے درمیان بانٹی جاتی ہے اور آل سعود خاندان عوام کے روزگار کے لئے کوئی بندوبست کرنے کی ضرورت محسوس نہيں کرتا۔ سعودی وزارت محنت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں بے روزگاری کی شرح 11 فیصد ہے جبکہ غیرجانبدار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شرح اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور بے روزگاری کا مسئلہ رہائش کے خطرناک مسئلے کے علاوہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں اکثر رہائشی علاقے آل سعود یا ان سے وابستہ لوگوں کی ملکیت ہيں اور ملک کی ستر فیصد سے زائد آبادی کرائے کے گھروں میں رہتی ہے۔ سیاسی و سماجی جماعتوں اور راہنماؤں کے اعلان کے مطابق بے روزگاری کے خلاف عوامی تحریک 15 شعبان سے شروع ہوگي اور عوام اس روز نماز عشاء کے بعد مساجد سے اپنی ریلیوں کا آغاز کریں گے۔ واضح رہے کہ آل سعود نے اپنے درباری مفتیوں کے تعاون سے ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں اور جلسے جلوسوں کو حرام قرار دیا ہے۔ ............
/110