28 جون 2012 - 19:30

شام کے صدر نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے بحران ميں بين الاقوامي، علاقائي اور داخلي عوامل دخيل ہيں -

ابنا: شام کے صدر بشار اسد نے جمعرات کي رات ايران ٹي وي کے چينل فور سے گفتگو ميں کہا کہ بين الاقوامي عامل، مغربي حکومتوں کے موقف سے تعلق رکھتا ہے جو ان کي استعماري خو کا نتيجہ ہے - انہوں نے کہا مغربي حکومتيں دوسروں پر اپنے نظريات مسلط کرنے کي کوشش کررہي ہيں -صدر بشار اسد نے علاقائي عامل کے بارے ميں کہا کہ علاقے کي بعض حکومتيں فلسطين، عراق اور تحريک مزاحمت حزب اللہ کے بارے ميں شام کے موقف کے سبب مشکلات سے دوچار تھيں اور اب وہ علاقے ميں شام کے کردار کو کم کرنا چاہتي ہيں –انہوں نے شام کے داخلي عامل کے بارے ميں کہا کہ شام ميں کچھ مسائل تھے ليکن وہ ايسے نہيں تھے کہ اس ميں ايک فريق دوسرے فريق کو ختم کرنے اور راستے سے ہٹانے کي کوشش کرتا - انہوں نے کہا کہ شام ميں جو مسائل تھے وہ دوسرے ملکوں ميں بھي تھے مگر يہاں بعض داخلي عناصر نے بيروني طاقتوں سے پيسے ليکر ملک کے اندر بدامني اور آشوب  پھيلانے کي کوشش کي –شام کے صدر نے اصلاحات کي وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے  اصلاحات کو اقتصادي ترقي پر متمرکز کيا اور اقتصادي اصلاحات کے تعلق سے کافي کام ہوئے - انہوں نے کہا کہ اسي کے ساتھ ہم نے ابلاغيات کے شعبے اور سياسي ميدان ميں بھي کافي  اصلاحات انجام ديں - بشار اسد نے بعض آمر حکومتوں کي جانب سے شام ميں بدامني اور آشوب پھيلانے والے عناصر کي حمايت کے بارے ميں کہا کہ دہشتگردوں اور ان کي حمايت کرنے والي حکومتوں کے لئے اصلاحات کي کوئي اہميت نہيں ہے بلکہ وہ صرف بدامني پھيلانے کي فکر ميں ہيں -انہوں نے شام ميں دہشتگردوں اور بدامني پھيلانے والوں کي مغربي حکومتوں کي جانب سے حمايت کے بارے ميں کہا کہ مغربي حکومتيں دوہري پاليسيوں پر عمل کرتي ہيں اور علاقے کي بعض حکومتيں جو اپنے فيصلوں ميں آزاد نہيں ہيں، ان کے ايجنڈے پر کام کررہي ہيں-......./169