25 جون 2012 - 19:30

شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ترکی کے جنگی جہاز کو شامی فوج کی طرف سے مار گرائے جانے کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ کے بیان کو رد رکتے ہوئے کہا ہے کہ داؤد اوغلو کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور ترکی نیٹو کو اس معاملے میں وارد کرکے مزید غلطی کا ارتکاب کررہا ہے۔

ابنا: شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ترکی کے جنگی جہاز کو شامی فوج کی طرف سے مار گرائے جانے کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ کے بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ داؤد اوغلو کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور ترکی نے نیٹو کو اس معاملے میں وارد کرکے مزید غلطی کا ارتکاب کیاہے۔ انھوں نے کہا شام کا حسن ہمسائگي پرمکمل یقین ہے لیکن ہمارے ہمسایہ ممالک کو بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے شام کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے جہاز کے ملبے کو تلاش کرنے کے سلسلے میں ترکی کی بحریہ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے جو ہمارے حسن عمل کا مظہر ہے ہم نے ترکی سے مشترکہ کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا جو ترکی کے جنگي جہاز کو نشانہ بنانے کی دقیق جگہ کا تعین کرے لیکن ترکی نے ہمارے حسن اقدام کا کوئي جواب نہیں دیا ہے انھوں نے کہا کہ رتکی کے اعلی حکام نے اپنے ابتدائی بیانات میں ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا ہے اور اب وہ اپنے بیانات کو غلط اور توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں شامی ترجمان نے کہا کہ ترکی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اسرائيل اور امریکہ کو خوشحال کرنے کے لئے شام کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیوں کو جاری رکھے۔ انھوں نے کہا کہ شامی فوج اور عوام اپنے عزیز ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔شام اورترکی کےدرمیان جنگ کا کوئی خطرہ نہیںشام کی جانب سےترکی کاجنگی طیارہ مارگرائےجانےکےبعد کہاجارہاہےکہ میڈیٹیرین سی میں اس جیسا ایک اورواقعہ رونما ہوا ہے۔اگرچہ دوسرےواقعےمیں ترکی کاطیارہ تباہ نہيں ہوا لیکن انقرہ اوردمشق کےتعلقات میں ایک جنجال برپاہوگیاہے۔ترکی کادعوی ہےکہ مذکورہ جنگی جہاز اس جہازکےملبےاورپائلٹوں کوتلاش کررہاتھا جسےابھی حال ہی میں شام نےمارگرایاتھا۔درحقیقت علاقےکےسیاسی ذرائع ابلاغ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ کیاترکی نیٹوکےپانچویں منشور کاحوالہ دیتےہوئےاس سےمطالبہ کرےگاکہ نیٹوکےایک رکن ملک پرایک باہری ملک نےحملہ کیاہے لہذااس کی مدد کی جائے۔شام میں نیٹوکی فوجی مداخلت پرمبنی ترکی کی سابقہ درخواست کےپیش نظر اس وقت یہ سوال زیادہ زور وشورسےاٹھایاجارہاہے اس بنا پرترکی فیصلےکی نہایت نازک گھڑی سےگذررہاہے۔ حکومت انقرہ نے کہاہےکہ ترکی شام کےحالیہ حملےکاجواب دےگا۔سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ اگرانقرہ حکومت اس کےجواب میں فوجی اقدام کرےگی تو اسےمتعدد چیلنجوں کاسامناکرناپڑےگا۔مثال کےطورپر جرمن اخبار زودویچہ سایتونگ نےلکھاہےکہ ترکی کافوجی جواب نہ صرف ترکی اورعلاقےکےلئے بلکہ سب کےلئےالمناک ہوگا۔کیونکہ ترکی اورشام کےدرمیان فوجی جھڑپ ایک خاص جگہ تک محدود نہيں ہوگی بلکہ اس میں نیٹوامریکہ اورروس بھی الجھ سکتےہیں۔اس بنا پر اس مقالےمیں نیٹوسےمطالبہ کیاگیاہےکہ وہ ترکی کواس بات کےلئےراضی کرےکہ وہ فوجی آپشن اپنی میزسےاٹھالے۔اسی طرح بعض سیاسی ناظرین کاخیال ہےکہ ترکی اگرشام پرفوجی حملہ کرےگا تونہ صرف اپنےملک بلکہ علاقےکی رائےعامہ کےمدمقابل ہوگا۔ترکی میں انجام پانےوالےآخری سروےکےمطابق اس ملک کےعوام کی بڑی تعداد حکومت ترکی سےشام کےداخلی امورمیں مداخلت سےباز رہنےکامطالبہ کررہی ہے۔حتی اوکتای ورال جیسےترکی کےبعض اراکین پارلیمنٹ اورسیاسی حلقے اس ملک کی حکومت پر صیہونی حکومت اورامریکہ کےمفاد میں شام کےامورمیں فوجی مداخلت کاالزام لگایاہے۔اس کےعلاوہ علاقےکی رائےعامہ بھی ممکن ہےترکی پریہ الزام لگائےکہ شام میں اس کی مداخلت کےنتیجےمیں ہی دمشق نےاس کےجنگی جہازکومارگرایاہے۔بعض ماہرین کاخیال ہےکہ شام کےخلاف ترکی کےاقدام نےشام کےعوام میں غم وغصہ پیداکردیاہےجبکہ شام نےترکی کےخلاف کبھی کوئی اقدام نہيں کیاہے۔شام کےحکام ترکی کی بارڈرسیکورٹی فورس پر اس ملک کےسرحدی علاقوں سے بلوائیوں کےنکلنےمیں مدد کی کوشش کابھی الزام لگارہےہيں جبکہ اس سےقبل علاقےکےبعض ملکوں پر شامی بلوائيوں کوفوجی سازوسامان فراہم کرنےپربھی دمشق حکومت ناراضگی ظاہرکرچکی ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ امریکہ اوربرطانیہ نےاعتراف کیاہےکہ ترکی شام کےباغیوں اوردہشتگردوں کی ٹریننگ سنٹرمیں تبدیل ہوچکاہےحتی بعض حکام نے یہاں تک کہاہےکہ ترکی جیسےملکوں میں القاعدہ سےوابستہ دہشتگرد بھی ٹریننگ لےرہےہیں۔حکومت ترکی کورائےعامہ کی جانب سےدوسری مشکلات کابھی سامناہے رائےعامہ ترکی حکومت پر دہشتگردی کےسلسلےمیں دہرا رویہ اختیارکئےجانےکابھی الزام لگارہی ہے ۔ حکومت ترکی نےایک طرف دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث عراق کےسابق نائب صدرطارق الھاشمی کوپناہ ديئےہوئے ہے اوردوسری جانب عراق پر پی کےکے، دہشتگردوں کوپناہ دینےکےسلسلےمیں خبردارکررہی ہے۔اس میں کوئی شک نہيں کہ رائےعامہ کی نظرمیں یہ تمام مسائل ترکی کےعلاقائی سیاسی رویےمیں نیک نیتی کےفقدان کی علامت سمجھےجارہےہیں اورشام کےساتھ فوجی جھڑپ کاآغازاسےسنگین مشکلات اور چیلنجوں سےدوچارکرسکتاہے۔......./169