اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بادشاہ کی زندگی ہی میں پہلی مرتبہ دوسرے ولیعہد کی موت کی خبر کل پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی سرخی بن گئی۔ نائف بن عبدالعزیز کا انجام بھی اپنے بھائی سلطان بن عبدالعزیز جیسا ہوچکا اور ان کا ولیعہدی میں ہی انتقال ہوگیا جبکہ وہ سوئٹزر لینڈ میں علاج کروانے کے لئے گئے ہوئے تھے اور ان کا جسد خاکی آج مکہ معظمہ منتقل کیا گیا اور مسجد الحرام میں شہزادوں کے کندھوں پر ان کی مشائعت کی گئی جس کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور پھر آل سعود کے خاندانی یا شاہی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ تدفین کی رسومات میں سعود بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بھی موجود تھے جبکہ کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد آل الصباح اور مصر کی اسرائیل نواز فوجی کونسل کے سربراہ جنرل حسین طنطاوی، اردن کے بادشاہ عبداللہ الثانی، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی اور سابق لبنانی وزیر اعظم سعد حریری بھی ان رسومات میں موجود تھے۔ سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ ملک عبداللہ اور امیر کویت کے ساتھ "مقام خاص" سے رسومات کا نظارہ دیکھ رہے تھےجسد خاکی جنیوا سے جدہ اور جدہ سے مکہ منتقل کیا گیا تھا تا کہ مغرب کی نماز کے بعد ان کی میت پر نماز ادا کی جائے اور "قبرستان العدل" یعنی اسی شاہی قبرستان میں دفنا دیا جائے۔نائف بن عبدالعزیز عبداللہ کے سوتیلے بھائی تھے اور 37 سال تک سعودی عرب کے وزیر داخلہ تھے اور اس دوران 1979 میں مکہ معظمہ پر الجہیمی نے قبضہ کیا تو الجہیمی اور اس کے ساتھیوں کے مسجد الحرام میں ہی قتل کرنے کا حکم نائف نے جاری کیا تھا۔ 1987 میں نائف نے چھ سو نہتے حجاج کو مکہ معظمہ میں قتل کروا دیا اور عراق، شام، پاکستان اور بعض دیگر ممالک میں تکفیری وہابیوں کی ہمہ جہت مدد و حمایت کرتے رہے اور سعودی عرب کے اندر بھی وہابی مفتیوں کے بہت قریبی سمجھے جاتے ہیں جبکہ امریکی اور برطانوی نیز اسرائیلی سلمان بن عبدالعزیز کو نائف پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ شہرت لبرل تفکرات اور مغرب و صہیونیت نوازی سلمان کی وجہ شہرت ہے اور ان کے وہابی مفتیوں کی طرف جھکاؤ بھی ضرورت سے زیادہ نہيں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان بن عبدالعزیز کو ولیعہد بنائے جانے کا امکان زیادہ قوی ہے۔
سعودي ولي عہدشہزادہ نائف بن عبدالعزيز انتقال کرگئے / باتصویر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
