ابنا: ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایک جرمن اخبار کو انٹرویو کے دوران یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ اقوام کو آزادی اور انتخاب کا حق حاصل ہے کہا کہ شام میں اصلاحات کے ساتھ عوام کو ان کے جائز حقوق حاصل ہونے والے ہیں لیکن بعض عرب اور یورپی ممالک کی مداخلت کی وجہ سے شام کی صورتحال پیچیدہ ہوچکی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام بارہا تاکید کرچکے ہیں کہ شام کی صورتحال خطے کے ان دوسرے ممالک سے مختلف ہے جن میں انقلابی تحریکیں کامیاب ہوچکی ہیں یا چل رہی ہیں اور شام چونکہ اسرائیل کے خلاف فرنٹ لائن میں ہے اس لۓ علاقائی صورتحال کو بہانہ بنا کر شام اور استقامت کے دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہوچکا ہے۔
جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ تہران شام کا بحران حل کرنے کے لۓ ہمیشہ علاقائی اور شام کے فریقوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لۓ آمادہ ہے۔ اور اس نے اس سلسلے میں مختلف اقدامات انجام دیۓ ہیں۔ لیکن بعض علاقائی اور عالمی حلقوں کی جانب سے شام کے مسلح گروہوں کی واضح طور پر حمایت کۓ جانے کی وجہ سے اس ملک کی صورتحال پیچیدہ ہوچکی ہے۔
شام میں مسلح افراد کے اقدامات میں شدت پیدا ہونے کے بعد بین الاقوامی مبصرین کی کمیٹی کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ نے کل سے شام میں اپنا کام روک دیا ہے۔ شام کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ شام میں بدامنی کے واقعات میں شدت اور دہشتگردوں کی کارروائیوں میں اضافے کے باعث بین الاقوامی مبصرین کی کمیٹی نے اپنی سرگرمیاں روک دی ہیں۔
شام میں بین الاقوامی مبصرین کی کمیٹی نے ایسی حالت میں اپنے کام کو روک دیا ہے کہ جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار شام کے سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں کے سلسلے میں مسلح گروہوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے شام کی صورتحال کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان کے ذریعے درحقیقت وہ اس نکتے پر زور دینا چاہتے ہیں کہ شام کے لوگوں کو ہی اپنے مسائل کے حل کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ لیکن اس ملک کا سیاسی عمل غیر ملکی مداخلت اور دہشتگردی اور تشدد آمیز اقدامات کی علانیہ حمایت کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب سعودی عرب ، قطر اور ترکی سمیت بعض عرب ممالک اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لۓ امریکہ اور صیہونی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے شام میں علانیہ طور پر دہشتگردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ شام کے مسلح گروہ بھی شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ نمائندے کوفی عنان کی تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شام میں دہشتگردوں کو اسلحہ فراہم کیا جانا اور بعض ممالک کی جانب سے ان کو ٹریننگ دیا جانا ایسی تشویشناک خبریں ہیں جن کی وجہ سے شام کی ملت کے مفادات خطرے میں پڑ چکے ہیں کیونکہ شام میں دہشتگردوں کی حمایت کی وجہ سے اس ملک کے مسائل کے حل سے متعلق علاقائی اور عالمی کوششوں کی کامیابی کی امید نہیں رکھی جاسکتی ہے۔....... /169