ابنا: علی اکبر صالحی نے آج کابل میں افغانستان کے بارے میں منعقد اجلاس میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی یہ ہےکہ افغانستان میں پائدار ترقی میں مدد کرنے کے لئے علاقائي ملکوں کا باہمی تعاون ضروری ہے۔ علی اکبر صالحی نے کابل میں علاقائی ملکوں کے اس اجلاس کو گذشتہ نشستوں کا تسلسل قراردیا اور کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے علاقائي ملکوں کا تعاون بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور افغانستان کے دیرینہ اور بڑھتے ہوئے تعلقات میں مزید استحکام لانے کی ضرورت پر زوردیا، انہوں نے افغانستان میں روزافزون تشدد اور بدامنی نیز بے گناہ انسانوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف وروزی پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ یہ سارے مسائل افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگي کی بنا پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دس برسوں سے موجود بیرونی افواج کی موجودگي سے امن و امان کی صورتحال ابتر ہوئي ہے دہشتگردی روز مرہ کا معمول بن چکی ہے اور اس میں اضافہ ہوا ہے، منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ، منظم جرائم، عام شہریوں کے قتل عام، اور شہروں نیز دیہی علاقوں کی تباہی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
علی اکبر صالحی نے کہا کہ بعض ممالک اپنے سامراجی اھداف کے حصول کی غرض سے افغانستان میں طولانی مدت تک اپنی فوجیں تعینات رکھنا چاہتے ہیں اور یہ بات افغانستان میں امن قائم کرنے کی علاقائي ملکوں اور عالمی برادری کی کوششوں کے منافی ہے اور افغانستان کو سکیورٹی کے لحاظ سے کھلونہ بنادے گی۔ کابل میں علاقے کے پندرہ ملکوں کا اجلاس جاری ہے جس میں علاقے کے بارہ وزراے خارجہ اور بعض عالمی اداروں کے نمائندے شرکت کررہے ہیں. .......
/169