ابنا: رامین مہمان پرست نے آج آئي آر آئي بی کی ورلڈ سروس کے کارکنوں سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو فنی اور قانونی لحاظ سے کسی طرح کی پریشانی لاحق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی برادری کی تشویش دور کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ استنبول اور بغداد میں یہ طے پایا تھا کہ مذاکرات معین ایجنڈے اور این پی ٹی کے تحت انجام پائيں گے تاکہ ایران کے مسلمہ حقوق بھی حاصل ہوتے رہیں اور دوسری طرف سے سارے ملکوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ پرامن ایٹمی انرجی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
مہمان پرست نے کہا کہ ایران نے "قدم بہ قدم: سے موسوم تجویز سے مشروط اتفاق کیا ہے اور اس تجویز کے تحت ایک کے بعد دوسرے موضوع کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلامی انقلاب نے مشرق وسطی میں سامراجی ملکوں کی طاقت کا توازن بگاڑدیا ہے اور اسلامی انقلاب کی تاثیرات، اسکی روز افزون ترقی اور ایران کی خودمختاری سے دشمن خوش نہیں ہیں اور جب تک ایران مغرب کی مخالفت کرتا رہے گا مغرب ایران کو برداشت نہیں کرسکتا۔
مہمان پرست نے کہا کہ مشرق وسطی میں صہیونی ریاست کا وجود اس حکومت کے حامیوں کے لئے ایک سیاسی اور اعتقادی مسئلہ ہے لیکن اسلامی بیداری کی تحریک سے صہیونی ریاست کے حامیوں کی نیندیں اڑ گئي ہیں۔....... /169