7 جون 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے جو شنگھائی تعاون تنظیم کے بارہویں سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے بیجنگ کے دورے پر ہیں اپنی تقریر میں اس تنظیم کے دائرے میں علاقائی تعاون سے متعلق ایران کی تجاویز پر روشنی ڈالی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے سربراہوں سے گفتگو اور تبادلۂ خیال کیا۔

ابنا:‌صدر مملکت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے بارہویں سربراہی اجلاس سے اپنے خطاب میں شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائي و عالمی یکسوئی و ہمدلی کے فروغ ۔ اقتصادی تعاون کی توسیع ۔ تسلط پسندوں کے تسلط سے ہٹ کے کرنسی و مالی اداروں کے قیام ۔ اور سیاسی و ثقافتی تعلقات کے فروغ جیسے نکات کو دنیا کی موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال سے باہر نکلنے اور دنیا کے نئے اور منصفانہ نظام کے ڈھانچے کی تعمیر کی طرف آزاد ملکوں کی حرکت کے طریقوں کی حیثیت سے پیش کیا ۔

جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھہ ایران کے تعاون کو بہت زیادہ وسیع اور موثر قرار دیا اور موجودہ عالمی معاشی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو شمالی امریکہ۔ لاطینی امریکہ ۔ یورپ ۔ افریقہ اور ایشیاء سمیت پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے کہا کہ اغیار کے تفرقہ و جدائی پر اصرار کے مقابلے میں دوستی و یکسوئی کے فروغ سے متعلق سیاسی و ثقافتی تعلقات کی توسیع بہت زیادہ ضروری ہے جو تمام رکن ملکوں کی ترقی و پیشرفت کے ساتھہ ساتھہ سیکیورٹی کے استحکام کا بھی باعث بنے گی۔ شنگھائی تعاون تنظیم، کثیر جہتی سیکیورٹی تعاون کیلئے سنہ 2001 میں روس ۔ چین ۔ قرقیزستان ۔ قزاقستان ۔ تاجیکستان ۔ اور ازبکستان کے سربراہوں کے توسط سے تشکیل پائی تھی جس میں اس وقت ایران ۔ پاکستان ۔ ہندوستان ۔ اور منگولیہ مبصر کی حیثیت سے شامل ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے شنگھائی تعاون تنظیم کے بارہویں سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر اعظم ون جیا باؤ سے ملاقات میں چین کی ترقی و پیشرفت پر اظہار خوشی کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی منجملہ خلائی شعبے میں تعاون ۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر تعاون ۔ تعلقات کی توسیع ۔ مالی و تجارتی لین دین کے شعبوں میں رکاوٹوں کو دور کرنے ۔

 مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور توانائی کے شعبے میں طویل المدت سمجھوتوں کے انعقاد کو ایران اور چین کے دو طرفہ تعاون کے ذرائع سے تعبیر کیا جبکہ اس ملاقات میں فریقین کے درمیان افغانستان کے مسائل اور اس ملک کی تبدیلیوں اور ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں نیز پانچ جمع ایک کے ساتھہ مذاکرات جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی ۔ صدر مملکت نے اسی طرح پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھہ ہونے والی ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علاقائی قوموں کے حقوق و مفادات، تسلط پسندوں کی نظر میں کوئي اہمیت نہیں رکھتے تاکید کے ساتھہ کہا کہ علاقائی ملکوں کے درمیان تعاون و مفاہمت کی توسیع بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے اسلئے کہ علاقائی قوموں کے مابین تعلقات و دوستی کے فروغ سے حالات بڑی تیزی سے ان کےمفاد میں تبدیل ہوں گے ۔

جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایران سے پاکستان گیس کی منتقلی اور اسی طرح ایران سے پاکستان بجلی کی سپلائی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو دو پڑوسی ملکوں میں تعاون کے ذرائع سے تعبیر کیا اور فریقین کے درمیان علاقائی و عالمی سطح پر تعاون کے فروغ کی ضرورت پر تاکید کی ۔ اس ملاقات میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا کہ دنیا کو چاہیئے کہ عالمی سطح پر تمام مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور اس سلسلے میں تمام ملکوں کے تاریخی ماضی اور مقام و منزلت پر بھی توجہ دے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اسی طرح ترکمنستان کے صدر قربان قلی بردی محمد اف سے ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران،ترکمنستان کی ترقی و پیشرفت اور رفاہ کو اپنی ترقی و پیشرفت اور رفاہ سمجھتا ہے ایران- ترکمنستان اور قزاقستان کی بچھائی جانے والی مشترکہ ریلوے لائن کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان تینوں ملکوں کا یہ مشترکہ پروجیکٹ ایک اہم اور تاریخی اور بالفاظ دیگر علاقائی سطح پر ایک بڑا پروجیکٹ و منصوبہ ہے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بارہویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران و تاجیکستان کے صدور نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہمہ جہتی تعلقات کے فروغ کے طریقوں اور اہم ترین علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اور امام علی رحمان نے ایران ۔

افغانستان اور تاجیکستان کے درمیان مواصلاتی راہ کے قیام اور پانی کی منتقلی نیز توانائی کے تبادلے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مشرق سے مغرب اور چین سے ایران اور پھر یورپ تک اقتصادی تعاون کی توسیع کی غرض سے ایران۔ افغانستان ۔ تاجیکستان ۔ قرقیزستان اور چین کے درمیان مواصلاتی راہ اور پانی و توانائی کی مشترکہ لائینوں کے قیام کی ضرورت کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ۔ قابل ذکر ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد شنگھائی تعاون تنظیم کے بارہویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی غرض سے اپنے جاری دورۂ بیجنگ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین سے بھی ملاقات کی ۔ ملاقات میں روس کے صدر پوتین نے کہا کہ روس ایران کے پرامن ایٹمی انرجی کے استعمال کے حق کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے ایٹمی معاملے کے تعلق سے تہران کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو نے ملت ایران کے اس حق کی حمایت کی ہےکہ ملت ایران کو جدید ترین ٹکنالوجیاں حاصل کرنے کا حق حاصل ہے .......

/169