4 جون 2012 - 19:30

صہيوني ریاست کو ہتھياروں سے ليس کرنے کے سلسلے ميں جرمني کا کردار سامنے آنے کے بعد جرمني کي سياسي جماعتوں کے نمائندوں نے اس سلسلے ميں جرمن چانسلر سے وضاحت طلب کرلي ہے-

ابنا: ہفت روزہ جريدے اشپيگل نے ڈولفن نامي جديد ترين آبدوزکے سودے کے بارے ميں جرمني کے ساتھ اسرائيل کے معاہدے کے پوشيدہ پہلوؤں کے سامنے آنے کے بعد صہيوني ریاست کو جديد ہتھياروں سے ليس کرنے کے سلسلے ميں جرمني کاکردار کھل کر سامنے آگيا ہے - اسرائيل نے اس آبدوز کو ايٹمي ہتھياروں سے ليس کرديا ہے -

جرمن جريدے اشپيگل نے اپني جامع اور دستاويزي رپورٹ ميں لکھا ہے کہ جرمني کي ڈولفن آبدوز کو اسرائيل نے اپنے تباہ کن ايٹمي ميزائيلوں سے ليس کرکے اپنے جنگي يونٹ ميں شامل کرليا ہے- اس انکشاف کے بعد جرمني کي حزب  اختلاف کي جماعت ڈيموکريٹک سوشلسٹ پارٹي نaے حکومت کے اس اقدام پر شديد تنقيد کرتے ہوئے چانسلر انجلا مرکل سے کہا ہے کہ وہ وضاحت پيش کريں -

جرمني کي ڈيموکريٹک سوشلسٹ پارٹي کے اہم رہنما رولف موتسے نيش نے کہاہے کہ جرمني کي ڈولفن آبدوز کو اسرائيل کے ذريعے تباہ کن ايٹمي ہتھياروں سے ليس کئے جانے کے معاملے پر حکومت جرمني کو وضاحت پيش کرنا ہوگي-

جرمني کي پارلمينٹ ميں گرين پيس پارٹي کے پارليماني ليڈر يورگن تريتين نے بھي جرمني کي چانسلر مرکل پر الزام لگايا کہ انہوں نے اسرائيل کو ڈولفن آبدوز ديتے وقت اسرائيل کے سامنے جو شرط رکھي تھي اس کو خود ہي نظر انداز کرديا ہے-.......

/169