4 جون 2012 - 19:30

دنيابھر ميں اسلحہ کي خريداري ميں پاکستان تيسرے نمبر پر ہے ،دنيا کے 8ممالک کے پاس19ہزار نيوکليئر وارہيڈز ہيں،2011ميں مجموعي عالمي فوجي اخراجات 1738ارب ڈالر کيے گئے

ابنا:  2011ميں دنيا کے ہر شخص نے 249ڈالر دفاعي مد ميں خرچ کيے، پاکستان کے پاس 90سے110جوہري ہتھيار جب کہ بھارت کے پاس80سے100جوہري ہتھيار ہيں،ايک عالمي تھنک ٹينک کي رپورٹ کے مطابق ايشياء اور آسٹريليا نے 2007سے2011کے درميان دُنيا بھر کے ہتھياروں کانصف حصہ درآمدکيا.

دنيا بھر ميں ہتھياروں کے پانچ سرفہرست بڑے خريدار ممالک ميں شامل بھارت،جنوبي کوريا،پاکستان،چين اور سنگاپور، ايشيائي خطے سے تعلق رکھتے ہيں. عالمي سطح پر اسلحے کي مجموعي درآمدات ميں بھارت10في صد، جنوبي کوريا6في صد،پاکستان5في صد، چين پانچ في صد اور سنگاپور4في صدحصے کے حامل رہے.آٹھ ممالک امريکا،روس،برطانيہ،فرانس،چين،بھار ت، پاکستان اور اسرائيل کے پاس کل19ہزار نيوکليئر وارہيڈز ہيں.

اس وقت دنيا کے آٹھ ممالک کے پاس 4ہزار4سو آپريشنل نيو کليئر ہتھيار موجود ہيں جن ميں2ہزار ہتھيار انتہائي تيار حالت ميں ہيں.2012کي رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت اپني جوہري طاقت اور حجم ميں مسلسل اضافہ کر رہے ہيں.

دونوں ممالک بيلسٹک اور کروز ميزائل جيسے جوہري ہتھياروں کي نئي اقسام پر کام اور فوجي جوہري مواد کي پيداواري صلاحيت ميں اضافہ کر رہے ہيں.

رپورٹ کے مطابق امريکا،برطانيہ،روس،چين اور فرانس اپنے جوہري ہتھياروں کي تياري ميں افزودہ يورينيم اور پلوٹونيم دونوں استعمال کرتا ہے.

بھارت ،اسرائيل اور جنوبي کوريا اپنے جوہري ہتھياروں ميں پلوٹونيم استعمال کرتا ہے جب کہ پاکستان کے جوہري ہتھيار افزودہ يورونيم سے بنائے جارہے ہيں .رپورٹ کے مطابق دنيا کے ہتھياروں کي مجموعي برآمدات ميں امريکاکا 30في صد، روس 24في صد،جرمني9في صد،فرانس8في صد اور برطانيہ کا4في صد حصہ ہے.

رپورٹ کے مطابق 2011ميں مجموعي عالمي فوجي اخراجات 1738ارب ڈالر کيے گئے جو عالمي جي ڈي پي کا2.5في صد ہے اور يہ اخراجات1998کے بعد سب سے زيادہ ہيں. 2011ميں سب سے زيادہ فوجي اخراجات کرنے والے دس بڑے ممالک ميں امريکا 711ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ چين143ارب ڈالر،روس71.9ارب ڈالر،برطانيہ62.7،فرانس62.5ارب ڈالر، جاپان59.3ارب ڈالر،بھارت48.9ارب ڈالر، سعودي ارب48.5ارب ڈالر،جرمني46.7ارب ڈالر اور برازيل 35.4ارب ڈالر خرچ کرتے ہيں. .......

/169