30 مئی 2012 - 19:30

کراچی میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ صبح گھر سے سلسلہ روزگار میں نکلنے والے شخص کو کسی حد تک یہ تو یقین ہوتا ہے کہ گھر واپس آئے گا لیکن اس کا کوئی یقین نہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر چل کے آئے گا یاکسی خیراتی ادارے کی ایمبولینس اس کے لئے بھی تیار کھڑی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی دن بدن تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ دہشت گرد، بھتہ خور اور ٹارگٹ کلرز معصوم شہریوں کا بے دردی سے قتل عام کر رہے ہیں۔صاحبان اقتدار میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔

ابنا:  ایسا لگتا ہے کہ تمام دہشت گرد گروہ امن پسند شہریوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو سیاسی دہشت گرد انہ کاروائیوں سے بچ جاتا ہے وہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی کالعدم تنظیموں کا نشانہ بن جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں اسلام و پاکستان دشمن دہشت گردوں کی فائرنگ سے مہدی رضااوراحمر علی کی شہادت ہوئی۔ منصفی کے پیشے سے وابستہ پینتالیس سالہ سید ضمیر احمد نقوی گھر سے نکلا تھا تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ گھر آنے کی بجائے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا۔

 شیعہ نسل کشی کا یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہامنگل کے روز بھی دو شیعہ مسلمان دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں یہی اک سوال کراچی میں زبان زد عام ہے۔ نجانے روزانہ کی بنیاد پر کتنے گھر اجڑ رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

کراچی شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ گلنگ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی گہری سازش ہے ۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا مختار امامی، کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل محمد مہدی اورپولٹیکل سیکرٹری اصغر زید ی نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ گلنگ ملک خدادپاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی گہری سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن اور اسلام دشمن قوتیں شہر میں بد امنی فرقہ واریت پھیلا کر مادر وطن کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں لیکن ایم ڈبلیو ایم ان کی شازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ کراچی میں دہشت گردوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔دہشت گرد اپنے بیرونی آقاؤں کی ایما پر بے گناہ شیعہ اور سنی بھائیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں ۔

راہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت شہر میں بسنے والے شیعہ عمائدین کو تحفظ دینے میں مکمل نا کام ہوگئی ہے۔اگردہشت گرد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شہر میں بد امنی اور فرقہ واریت پھیلا کرکراچی میں فرقہ وارانہ فساد کروائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار اپنے ہی جج ضمیر احمد نقوی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا نوٹس لیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم ایسے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کراچی کے امن کو بحال کرنے کے لئے تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپریشن کرے جس میں مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔.......

/169