ابنا: انہوں نے یہ بات مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نئے ٹیکس نہ لگانے کا حکومتی عہد قابل تحسین ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ منی بجٹ کا لامتناہی سلسلہ نہ شروع ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی اقتصادی سروے رپورٹ اور سٹیٹ بینک کے ذمہ داران کے بیانات کو دیکھا جائے تو آئندہ بجٹ لفظوں کا ہیر پھیر ہی لگتا ہے۔
آئندہ قومی بجٹ میں ظاہر کئے جانیوالے عوام کی فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی کے منصوبے ایک بھیانک خواب کی صورت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔جبکہ حکومتی دعویٰ ہے کہ وہ قرضوں کی بیساکھیوں پر چلنے والی کمزور معیشت کے باوجود انکے دور حکومت کا آخری بجٹ عوام دوست ہو گا جس میں عام آدمی کو ریلیف دیا جا ئے گا۔جبکہ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ سہ ماہی مہنگائی کی صورت میں عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی ۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی کسادبازاری اور ملک کی اندرونی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے ۔ حکومت دوراندیشانہ روش اپنانے کی بجائے نوٹ چھاپ کر اور مرکزی بینک سے قرضے لے کر گزارہ کر رہی ہے۔ اس بجٹ میں حکومتی توجہ ٹیکسوں کی وصولیوں پر ہونی چاہیے اور ٹیکس چوری کے تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ بجٹ میں دستیاب وسائل و حالات کی روشنی میں حکومتی ترجیح تعلیم، صحت، روزگار اور توانائی کے مسائل کے خاتمے پر ہونی چاہے۔ حکومتی اخراجات کو کم کرتے ہوئے بجٹ خسارہ کم کیا جائے تاکہ عام آدمی کی حالت بہتر ہو۔ ان کا کہناتھا کہ دنیا امن کی طرف بڑھ رہی ہے ، ہمیں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانا ہوگا ،جارہانہ عزائم کو ترک کرنا ہو گا ، اپنی آئندہ نسلوں کو پرامن مستقبل دینا ہو گا ، اس کے لئے ہمیں اپنے فوجی اخراجات میں کمی لانی ہو گی اور اس رقم کو عوامی فلاح کے لئے زیر استعمال لانا ہو گا۔
اسی طرح اگر حکومت نے ایڈہاک ازم کوترک نہ کیا اور نظام حکومت کو ڈنگ ٹپاؤ پروگرام سمجھا تو وہ وقت دور نہیں کہ مرکزی بینک مزید قرضہ دینے سے منکر ہو جائے ۔ ایسی صورتحال ملک کو نئے بحرانوں اور نئے مسائل کے دلدل کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس وصولی اور ٹیکس چوری کے مسائل کے ساتھ ہنگامی بنیادوںپر نہ نمٹا گیا اور حکومت نے اندرونی و بیرونی قرضوں پر تکیہ کیا تو اس نتیجہ بجلی، گیس، پٹرول اور روز مرہ کی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا جس کی بوجھ اٹھانا اب عوامی بساط سے باہر ہے۔
.......
/169